ہمارا ڈوبنا مشکل نہیں تھا
Tabish Kamalہمارا ڈوبنا مشکل نہیں تھا
نظر میں دور تک ساحل نہیں تھا
کہاں تھا گفتگو کرتے ہوئے وہ
وہ تھا بھی تو سر محفل نہیں تھا
میں اس کو سب سے بہتر جانتا ہوں
جسے میرا پتہ حاصل نہیں تھا
زمانے سے الگ تھی میری دنیا
میں اس کی دوڑ میں شامل نہیں تھا
وہ پتھر بھی تھا کتنا خوبصورت
جو آئینہ تھا لیکن دل نہیں تھا
ہم اس دھرتی کے باشندے تھے تابشؔ
کہ جس کا کوئی مستقبل نہیں تھا