کب کھلے گا کہ فلک پار سے آگے کیا ہے

Tabish Kamal

کب کھلے گا کہ فلک پار سے آگے کیا ہے

کس کو معلوم کہ دیوار سے آگے کیا ہے

ایک طرہ سا تو میں دیکھ رہا ہوں لیکن

کوئی بتلائے کہ دستار سے آگے کیا ہے

ظلم یہ ہے کہ یہاں بکتا ہے یوسف بے دام

اور نہیں جانتا بازار سے آگے کیا ہے

سر میں سودا ہے کہ اک بار تو دیکھوں جا کر

سر میدان سجی دار سے آگے کیا ہے

جس نے انساں سے محبت ہی نہیں کی تابشؔ

اس کو کیا علم کہ پندار سے آگے کیا ہے