غبار شام کے بے عکس منظر میں ہوا کی سائیں سائیں
Tabish Kamalغبار شام کے بے عکس منظر میں ہوا کی سائیں سائیں
پنچھیوں کو ہانکتی ہے
دور چرواہے کی بنسی میں ملن رس کا سریلا ذائقہ ہے،
رات رستے میں
کہاں سے تم مجھے آواز دیتی ہو!
مسلسل آہٹیں میری سماعت ہی نہ لے جائیں
بچا رکھے ہوئے آنسو کی بینائی ٹپکتی ہے
انہیں لفظوں کی لو میں رات کٹتی ہے جنہیں آنکھوں نے تصویر
شب وعدہ کی سنگینی روایت ہے
مرے امروز کے چولھے میں بھی اب تک وہی ایندھن
بھڑکتا ہے
اگر آواز روایت ہوں
اگر آواز دیتی ہو
تو آؤ صبح کے ساحل کو چلتے ہیں
لہو میں کسمساتے قہقہے ہونٹوں تک آنے دو
مجھے بھی مسکرانے دو