سرخ آنکھیں گھماتے ہوئے بھیڑیے رات کا حسن ہیں

Tabish Kamal

سرخ آنکھیں گھماتے ہوئے بھیڑیے رات کا حسن ہیں

سرسراتے ہوئے شاخچوں میں چھپے ماندہ پنچھی

مصلے پہ بیٹھے ہوئے ریش دار اہل باطن

پنگھوڑے میں کلکارتے نور چہرے

یہ بستر بدلتی ہوئی لڑکیاں

زہر اگلتے ہوئے سانپ

دیوار پر جست کرتے ہوئے سائے

لڑتی ہوئی بلیاں

رات کا حسن ہیں

اپنے سر پر یہ صدیوں سے پھیلا ہوا بے مہ و نجم گردوں

سر شام رنگ اپنا تبدیل کرتا ہے تو رات کا آئینہ جاگتا ہے

اندھیروں بھرے آئینے میں صدائیں ہیں، صورت نہیں

سامعہ شکل ترتیب دیتا ہے

سنتے ہوئے جگمگاتے ہیں آواز کے خال و خد

میں نے سرگوشیوں قہقہوں منزلوں آہٹوں

اور آہوں میں دیکھا ہے حسن

ایک پیرائے میں سر اٹھاتی ہیں غراہٹیں، وصل آثار سانسیں

یہ پلکیں جو آہستہ آہستہ ڈھلنے لگی ہیں

شفق جو اندھیرے میں گھلنے لگی ہے

یہی رات کا حسن ہے

رات آنکھوں میں ہے