عجب یقین سا اس شخص کے گمان میں تھا
Tabish Kamalعجب یقین سا اس شخص کے گمان میں تھا
وہ بات کرتے ہوئے بھی نئی اڑان میں تھا
ہوا بھری ہوئی پھرتی تھی اب کے ساحل پر
کچھ ایسا حوصلہ کشتی کے بادبان میں تھا
ہمارے بھیگے ہوئے پر نہیں کھلے ورنہ
ہمیں بلاتا ستارہ تو آسمان میں تھا
اتر گیا ہے رگ و پے میں ذائقہ اس کا
عجیب شہد سا کل رات اس زبان میں تھا
کھلی جو آنکھ تو تابشؔ کمال یہ دیکھا
وہ میری روح میں تھا اور میں مکان میں تھا