جو عضو باطن خدا بناتا تو ہم دل بے قرار ہوتے

Qadr Bilgrami

جو عضو باطن خدا بناتا تو ہم دل بے قرار ہوتے

جو عضو ظاہر خدا بناتا تو دیدۂ اشک بار ہوتے

جو گرد کر کے خدا اڑاتا تو اڑتے گرد ملال ہو کر

جو سنگ کر کے خدا جماتا تو جم کے لوح مزار ہوتے

خدا جو شانہ ہمیں بناتا تو ہم خلش ہوتے اپنے دل کی

خدا جو آئینہ ہم کو کرتا تو اپنے حیران کار ہوتے

جو روز ہم کو خدا بناتا تو بنتے روز فراق جاناں

جو رات ہم کو خدا بناتا تو ہم شب انتظار ہوتے

غرض کہ ایسا مصیبتوں کا ہمارے دل کو مزا پڑا ہے

کہ قدرؔ ہم کو خدا بناتا تو ہو کے بے قدر خوار ہوتے