جو داغ ہے عشق دل نشیں کا جو دل نشیں ہیں دل حزیں کا

Qadr Bilgrami

جو داغ ہے عشق دل نشیں کا جو دل نشیں ہیں دل حزیں کا

وہی ہے تمغہ مری جبیں کا وہی سلیماں مرے نگیں کا

گئی نہ مر کر بھی کینہ خواہی ملا کے مٹی میں کی تباہی

مری طرح سے کہیں الٰہی فلک بھی پیوند ہو زمیں کا

تڑپ نہ پوچھو دل حزیں کی کہوں میں تم سے کہاں کہاں کی

اسی سے ہے گردش آسماں کی اسی سے ہے زلزلہ زمیں کا

جہان سر پر اٹھا رہا ہوں جنوں میں دھومیں مچا رہا ہوں

جو دشت میں خاک اڑا رہا ہوں دماغ گردوں پہ ہے زمیں کا

کرم میں ہم کو غضب میں ہم کو کیا جو ممتاز سب میں ہم کو

تمہاری دشنام و لب میں ہم کو مزہ ملا زہر و انگبیں کا

یہ لاغری اب ہے خار دامن کہ اٹھ نہیں سکتا بار دامن

جو پاؤں اپنا ہے تار دامن تو ہاتھ ہے تار آستیں کا

میان محشر ملالتوں سے میں شمع ہوں دل کی حالتوں سے

کہ پاؤں تک سو خجالتوں سے عرق بہا ہے مری جبیں کا

سخن کو قدرؔ اوج دے زباں سے کہ تخم افشاں ہو لا مکاں سے

کیا ہے ناسخؔ نے آسماں سے بلند تر رتبہ اس زمیں کا