غنچے چٹک گئے چمن روزگار کے

Qadr Bilgrami

غنچے چٹک گئے چمن روزگار کے

پھوٹے حباب موج نسیم بہار کے

رضواں جو ٹوکے گا در فردوس پر ہمیں

کہہ دیں گے رہنے والے ہیں ہم کوئے یار کے

آنکھیں ترس رہی ہیں مری تیری زلف کو

تارے چمک رہے ہیں شب انتظار کے

آغاز میں بھی ہم کو ہے انجام کا خیال

دھڑکے شباب میں بھی ہیں روز شمار کے

مضمون ہیں ہرن مری بندش کمند ہے

اے قدرؔ شاعری میں مزے ہیں شکار کے