Poetry
Poet
Meter
- پیا تج عشق کوں دیتی ہوں سد بد ہور جیو دل میںہنوز یک ہوک نئیں ملتا کسے بولوں تو مشکل میںمحمد قلی قطب شاہ
- پیاری پیاری سوں پیار کئےسو لباں تھے لب آپ عیار کئےمحمد قلی قطب شاہ
- پیاری سہاتی ہے ابھرن سوں بھاریتو جاگا کرے من میں چھند سوں پیاریمحمد قلی قطب شاہ
- پیاری کے نیناں ہیں جیسے کٹارےنہ سم اس کے انگے کوئی ہیں دو دھارےمحمد قلی قطب شاہ
- پیا کا عشق ہے مرا یار جانیبن اس نیہ کوں جیو کر میں نہ جانیمحمد قلی قطب شاہ
- پیا کے نین میں بہت چھند ہےاو وو زلف میں جیو کا آنند ہےمحمد قلی قطب شاہ
- ترے درسن کی میں ہوں سائیں ماتیمجے لاوو پیا چھاتی سوں چھاتیمحمد قلی قطب شاہ
- ترے قد تھے سرو تازہ ہے جماو چایا ہے یا نو چمن میں علممحمد قلی قطب شاہ
- تمن روشنی بن ہمن روشنی ناہتو دیدار بن سبھی دیدار ہیں کاہمحمد قلی قطب شاہ
- خبر لیایا ہے ہدہد میرے تئیں اس یار جانی کاخوشی کا وقت ہے ظاہر کروں راز نہانی کامحمد قلی قطب شاہ
- سب اختیار میرا تج ہات ہے پیاراجس حال سوں رکھے گا ہے او خوشی ہمارامحمد قلی قطب شاہ
- سکی آج پیالا انند کا پلا منجو یاقوت ادھراں کی مستی دلا منجمحمد قلی قطب شاہ
- سکی تج زلف ہے جیواں کے آخذدسن تیرے اہیں رتناں کے آخذمحمد قلی قطب شاہ
- سکی مکھ صفحے پر تیرے لکھیا راقم ملک مصرعخفی خط سوں لکھیا نازک ترے دونوں پلک مصرعمحمد قلی قطب شاہ
- کل منج وزیر دل تھے قاصد بشارت آیایا حضرت سلیماں کن تھے اشارت آیامحمد قلی قطب شاہ
- مدن مست بدل مست کجن مست پری مستہوئی مست پون مست لگن مست پری مستمحمد قلی قطب شاہ
- نظر تج پہ ہے کیا تماشا کا حاجتنہیں سبز خط آگے چمپا کا حاجتمحمد قلی قطب شاہ
- ہمارا سجن خوش نظر باز ہےتو اس دل میں سب عشق کا راز ہےمحمد قلی قطب شاہ
- تپش ہو سوز غم ہو عشق میں لیکن فغاں کیوں ہولگی ہو آگ سینے میں مگر اس میں دھواں کیوں ہوPanna Lal Noor
- جذبۂ عشق اگر دل میں نہ پیدا ہوتامیں سمجھتا ہوں مرے حق میں یہ اچھا ہوتاPanna Lal Noor
- جس کا کوئی نہ ہو خدا ہوگاجس کا وہ بھی نہ ہو تو کیا ہوگاPanna Lal Noor
- چھپی ہوئی کہیں سجدوں میں سرکشی تو نہیںیہ میری رسم عبادت بھی بندگی تو نہیںPanna Lal Noor
- حسن بے پردہ ہے جلوہ عام ہےدیکھنا اہل نظر کا کام ہےPanna Lal Noor
- درماندگیٔ آہ شب گیر کو کیا کہئےاک نالۂ بے کس کی تاثیر کو کیا کہئےPanna Lal Noor
- زندگی کو ایک رنگیں داستاں سمجھا تھا میںزندگی بار گراں ہے یہ کہاں سمجھا تھا میںPanna Lal Noor
- سنیں گے لوگ اسے اپنی داستاں کی طرحفریب دیتا ہوں دنیا کو انکساری کاPanna Lal Noor
- عجیب شخص تھا منصور سوچتا ہوں میںکہ دے کے سر بھی پکارا کیا خدا ہوں میںPanna Lal Noor
- عدو کے ہاتھ سے میں جام لے کر پی نہیں سکتاکسی کم ظرف کا احسان لے کر جی نہیں سکتاPanna Lal Noor
- گلوں نے مسکرانے کی سزا پائی تو کیا ہوگاسزائے گل پہ غنچوں کو ہنسی آئی تو کیا ہوگاPanna Lal Noor
- محتاج دید و جلوہ کروں کیوں نظر کو میںنظروں میں کھینچ لاتا ہوں جب جلوہ گر کو میںPanna Lal Noor
- مرا درد نہاں ہے اور میں ہوںنشاط جاوداں ہے اور میں ہوںPanna Lal Noor
- میرے غم کا اثر ذرا نہ ہوایہ تو پتھر ہوا خدا نہ ہواPanna Lal Noor
- میں نے سوچا ہی نہیں مر کے کدھر جاؤں گامیں تو مانند صبا یاں سے گزر جاؤں گاPanna Lal Noor
- وہ ایک لمحہ جسے جاوداں کہا جائےملے تو حاصل عمر رواں کہا جائےPanna Lal Noor
- وہ جو تم نے غم دیا تھا مجھے سازگار ہوتااگر اتنا اور ہوتا کہ وہ استوار ہوتاPanna Lal Noor
- ہماری آنکھوں کے آگے محفل میں دور جام و سبو چلے ہیںبس ایک ہم ہیں کہ تیری محفل سے پی کے اپنا لہو چلے ہیںPanna Lal Noor
- ہونے کو تو خلقت میں تری ہوں گے جہاں اورپر تیرا یہ در چھوڑ کے جاؤں میں کہاں اورPanna Lal Noor
- یوں گزرے چمن سے کہ گلستاں نہیں دیکھاکانٹوں پہ چلے اور بیاباں نہیں دیکھاPanna Lal Noor
- انجام خوشی کا دنیا میں سچ کہتے ہو غم ہوتا ہےثابت ہے گل اور شبنم سے جو ہنستا ہے وہ روتا ہےسید محمد عبد الغفور شہباز
- بوند اشکوں سے اگر لطف روانی مانگےبلبلہ آنکھوں سے خونابہ فشانی مانگےسید محمد عبد الغفور شہباز
- نہ اپنا باقی یہ تن رہے گا نہ تن میں تاب و تواں رہے گیاگر جدائی میں جاں رہے گی تمہیں بتاؤ کہاں رہے گیسید محمد عبد الغفور شہباز
- ہے عشق تو پھر اثر بھی ہوگاجتنا ہے ادھر ادھر بھی ہوگاسید محمد عبد الغفور شہباز
- تعلیم کی میزان میں ہیں تلتے جاتےہیں جوہر طبع روز کھلتے جاتےسید محمد عبد الغفور شہباز
- دولت کے بھروسے پہ نہ ہونا غافلبہتر نہیں اوقات کا کھونا غافلسید محمد عبد الغفور شہباز
- غیرت میں سیاست میں شجاعت میں ہو مردہمت میں مروت میں عبادت میں ہو مردسید محمد عبد الغفور شہباز
- کہتے ہو کہ کر لیں گے ہم اس کام کو کلایسا نہ ہو کہ کل بھی ہاتھ سے جائے نکلسید محمد عبد الغفور شہباز
- لازم نہیں اس دولت فانی پہ دماغکر شکر جو حاصل ہے ترے دل کو فراغسید محمد عبد الغفور شہباز
- مرغوب ہو گر تم کو عمومی شاباشہر طرح کرو دولت دنیا کی تلاشسید محمد عبد الغفور شہباز
- ہے جس کی سرشت میں سفاہت کا میللے جائے بہا کے گرچہ تعلیم کا سیلسید محمد عبد الغفور شہباز
- اخلاق کے عنصر ہوں اگر اصل مزاججو قوم ہو کبھی نہ محتاج علاجسید محمد عبد الغفور شہباز