Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. پیا تج عشق کوں دیتی ہوں سد بد ہور جیو دل میںہنوز یک ہوک نئیں ملتا کسے بولوں تو مشکل میںمحمد قلی قطب شاہ
  2. پیاری پیاری سوں پیار کئےسو لباں تھے لب آپ عیار کئےمحمد قلی قطب شاہ
  3. پیاری سہاتی ہے ابھرن سوں بھاریتو جاگا کرے من میں چھند سوں پیاریمحمد قلی قطب شاہ
  4. پیاری کے نیناں ہیں جیسے کٹارےنہ سم اس کے انگے کوئی ہیں دو دھارےمحمد قلی قطب شاہ
  5. پیا کا عشق ہے مرا یار جانیبن اس نیہ کوں جیو کر میں نہ جانیمحمد قلی قطب شاہ
  6. پیا کے نین میں بہت چھند ہےاو وو زلف میں جیو کا آنند ہےمحمد قلی قطب شاہ
  7. ترے درسن کی میں ہوں سائیں ماتیمجے لاوو پیا چھاتی سوں چھاتیمحمد قلی قطب شاہ
  8. ترے قد تھے سرو تازہ ہے جماو چایا ہے یا نو چمن میں علممحمد قلی قطب شاہ
  9. تمن روشنی بن ہمن روشنی ناہتو دیدار بن سبھی دیدار ہیں کاہمحمد قلی قطب شاہ
  10. خبر لیایا ہے ہدہد میرے تئیں اس یار جانی کاخوشی کا وقت ہے ظاہر کروں راز نہانی کامحمد قلی قطب شاہ
  11. سب اختیار میرا تج ہات ہے پیاراجس حال سوں رکھے گا ہے او خوشی ہمارامحمد قلی قطب شاہ
  12. سکی آج پیالا انند کا پلا منجو یاقوت ادھراں کی مستی دلا منجمحمد قلی قطب شاہ
  13. سکی تج زلف ہے جیواں کے آخذدسن تیرے اہیں رتناں کے آخذمحمد قلی قطب شاہ
  14. سکی مکھ صفحے پر تیرے لکھیا راقم ملک مصرعخفی خط سوں لکھیا نازک ترے دونوں پلک مصرعمحمد قلی قطب شاہ
  15. کل منج وزیر دل تھے قاصد بشارت آیایا حضرت سلیماں کن تھے اشارت آیامحمد قلی قطب شاہ
  16. مدن مست بدل مست کجن مست پری مستہوئی مست پون مست لگن مست پری مستمحمد قلی قطب شاہ
  17. نظر تج پہ ہے کیا تماشا کا حاجتنہیں سبز خط آگے چمپا کا حاجتمحمد قلی قطب شاہ
  18. ہمارا سجن خوش نظر باز ہےتو اس دل میں سب عشق کا راز ہےمحمد قلی قطب شاہ
  19. تپش ہو سوز غم ہو عشق میں لیکن فغاں کیوں ہولگی ہو آگ سینے میں مگر اس میں دھواں کیوں ہوPanna Lal Noor
  20. جذبۂ عشق اگر دل میں نہ پیدا ہوتامیں سمجھتا ہوں مرے حق میں یہ اچھا ہوتاPanna Lal Noor
  21. جس کا کوئی نہ ہو خدا ہوگاجس کا وہ بھی نہ ہو تو کیا ہوگاPanna Lal Noor
  22. چھپی ہوئی کہیں سجدوں میں سرکشی تو نہیںیہ میری رسم عبادت بھی بندگی تو نہیںPanna Lal Noor
  23. حسن بے پردہ ہے جلوہ عام ہےدیکھنا اہل نظر کا کام ہےPanna Lal Noor
  24. درماندگیٔ آہ شب گیر کو کیا کہئےاک نالۂ بے کس کی تاثیر کو کیا کہئےPanna Lal Noor
  25. زندگی کو ایک رنگیں داستاں سمجھا تھا میںزندگی بار گراں ہے یہ کہاں سمجھا تھا میںPanna Lal Noor
  26. سنیں گے لوگ اسے اپنی داستاں کی طرحفریب دیتا ہوں دنیا کو انکساری کاPanna Lal Noor
  27. عجیب شخص تھا منصور سوچتا ہوں میںکہ دے کے سر بھی پکارا کیا خدا ہوں میںPanna Lal Noor
  28. عدو کے ہاتھ سے میں جام لے کر پی نہیں سکتاکسی کم ظرف کا احسان لے کر جی نہیں سکتاPanna Lal Noor
  29. گلوں نے مسکرانے کی سزا پائی تو کیا ہوگاسزائے گل پہ غنچوں کو ہنسی آئی تو کیا ہوگاPanna Lal Noor
  30. محتاج دید و جلوہ کروں کیوں نظر کو میںنظروں میں کھینچ لاتا ہوں جب جلوہ گر کو میںPanna Lal Noor
  31. مرا درد نہاں ہے اور میں ہوںنشاط جاوداں ہے اور میں ہوںPanna Lal Noor
  32. میرے غم کا اثر ذرا نہ ہوایہ تو پتھر ہوا خدا نہ ہواPanna Lal Noor
  33. میں نے سوچا ہی نہیں مر کے کدھر جاؤں گامیں تو مانند صبا یاں سے گزر جاؤں گاPanna Lal Noor
  34. وہ ایک لمحہ جسے جاوداں کہا جائےملے تو حاصل عمر رواں کہا جائےPanna Lal Noor
  35. وہ جو تم نے غم دیا تھا مجھے سازگار ہوتااگر اتنا اور ہوتا کہ وہ استوار ہوتاPanna Lal Noor
  36. ہماری آنکھوں کے آگے محفل میں دور جام و سبو چلے ہیںبس ایک ہم ہیں کہ تیری محفل سے پی کے اپنا لہو چلے ہیںPanna Lal Noor
  37. ہونے کو تو خلقت میں تری ہوں گے جہاں اورپر تیرا یہ در چھوڑ کے جاؤں میں کہاں اورPanna Lal Noor
  38. یوں گزرے چمن سے کہ گلستاں نہیں دیکھاکانٹوں پہ چلے اور بیاباں نہیں دیکھاPanna Lal Noor
  39. انجام خوشی کا دنیا میں سچ کہتے ہو غم ہوتا ہےثابت ہے گل اور شبنم سے جو ہنستا ہے وہ روتا ہےسید محمد عبد الغفور شہباز
  40. بوند اشکوں سے اگر لطف روانی مانگےبلبلہ آنکھوں سے خونابہ فشانی مانگےسید محمد عبد الغفور شہباز
  41. نہ اپنا باقی یہ تن رہے گا نہ تن میں تاب و تواں رہے گیاگر جدائی میں جاں رہے گی تمہیں بتاؤ کہاں رہے گیسید محمد عبد الغفور شہباز
  42. ہے عشق تو پھر اثر بھی ہوگاجتنا ہے ادھر ادھر بھی ہوگاسید محمد عبد الغفور شہباز
  43. تعلیم کی میزان میں ہیں تلتے جاتےہیں جوہر طبع روز کھلتے جاتےسید محمد عبد الغفور شہباز
  44. دولت کے بھروسے پہ نہ ہونا غافلبہتر نہیں اوقات کا کھونا غافلسید محمد عبد الغفور شہباز
  45. غیرت میں سیاست میں شجاعت میں ہو مردہمت میں مروت میں عبادت میں ہو مردسید محمد عبد الغفور شہباز
  46. کہتے ہو کہ کر لیں گے ہم اس کام کو کلایسا نہ ہو کہ کل بھی ہاتھ سے جائے نکلسید محمد عبد الغفور شہباز
  47. لازم نہیں اس دولت فانی پہ دماغکر شکر جو حاصل ہے ترے دل کو فراغسید محمد عبد الغفور شہباز
  48. مرغوب ہو گر تم کو عمومی شاباشہر طرح کرو دولت دنیا کی تلاشسید محمد عبد الغفور شہباز
  49. ہے جس کی سرشت میں سفاہت کا میللے جائے بہا کے گرچہ تعلیم کا سیلسید محمد عبد الغفور شہباز
  50. اخلاق کے عنصر ہوں اگر اصل مزاججو قوم ہو کبھی نہ محتاج علاجسید محمد عبد الغفور شہباز