منکر ہوتے ہیں ہنر والے
Qadr Bilgramiمنکر ہوتے ہیں ہنر والے
نخل جھک جاتے ہیں ثمر والے
ہم نے گھورا تو ہنس کے فرمایا
اچھے آئے بری نظر والے
منہدی مل کر وہ شوخ کہتا ہے
سینک لیں آنکھیں چشم تر والے
ہے سلامت جو سنگ در ان کا
سیکڑوں مجھ سے درد سر والے
قدرؔ کیا اپنے پاس دل کے سوا
اڑیں پر والے پھولیں زر والے