گھڑی دو گھڑی کی مسرت
Tabish Kamalگھڑی دو گھڑی کی مسرت
یہ صدیوں پہ پھیلا ہوا دیو قصہ ہمارے لہو میں رواں ہے
کسی گھونسلے میں سے انڈے چراتا ہوا سورما
ایک چیتے سے گر سیکھتا کوئی بچہ
کماں کھینچتا اور مادہ کو ناوک سے نیچے گراتا ہوا
آگ دریافت کرتا ہوا کوئی لڑکا
عجب صورتیں ہیں
شب داستاں گوئی صدیوں پہ پھیلی ہوئی ہے
ہوا مرغزاروں کی یخ بستگی میں نہیں رہ سکی
سو یہاں آ گئی ہے کہ اپنا بدن گرم کر لے
یہ آگ اب جبلت کی ترتیب کا لازمہ ہے
بہیمانہ خصلت کو تسکین دیتا ہوا ایک عنصر
ہوا دیو مالاؤں کے دور کی ایک بڑھیا ہے
جس کو ہر اک داستاں یاد ہے
یہ گھڑی دو گھڑی کی مسرت
جسے داستاں گو کی باتوں سے ہم نے کیا ہے کشید
ایک دن آئے گا جب ہوا اپنے قصے میں وہ صورتیں لائے گی
جن کا آئینہ ہم ہیں
شب داستاں گوئی میں ہم جو مبہوت و حیران بیٹھے ہوئے
داستان سن رہے ہیں
کبھی ایک ٹھٹھری ہوئی رات میں ہم کہانی کا مرکز بنیں گے
جو بچے عدم ہیں
ہمیں داستاں میں گھرا دیکھ کر کھلکھلائیں گے
مبہوت و حیراں ہوں گے