شب غم میں چھائی گھٹا کالی کالی

Qadr Bilgrami

شب غم میں چھائی گھٹا کالی کالی

جھکی ہے بلا پر بلا کالی کالی

بہت ایسے کالے ہرن ہم نے دیکھے

دکھاتے ہیں آنکھیں وہ کیا کالی کالی

ڈٹے مل کے رند سیہ مست جس دم

جھکی میکدے پر گھٹا کالی کالی

شب ماہ میں وہ پھرے بال کھولے

ہوئی چاندنی جا بجا کالی کالی

یہ سجدے کو خود جھک پڑے گی چمن پر

کہ قبلے سے اٹھی گھٹا کالی کالی

کھلی سب پر آخر تری گرم دستی

ہوئی کھولتے ہی حنا کا کالی کالی

لنڈھا دے مے سرخ تو اب تو ساقی

گھٹا اٹھی ہے دیکھ کیا کالی کالی

مرے کعبۂ دل کے مٹنے کا غم ہے

جو اوڑھے ہے کعبہ صبا کالی کالی

ہوئے ہیں سیہ بخت برباد لاکھوں

اٹھیں آندھیاں بارہا کالی کالی

بخارات دل آہ پر چھا گئے ہیں

گھٹا ہے بروئے ہوا کالی کالی

میں دیکھوں گا منہ ان کا دے کر یہ فقرہ

تری شکل ہے مہ لقا کالی کالی

سیہ نامۂ قدرؔ محشر میں نکلا

اٹھی دھوپ میں اک گھٹا کالی کالی