نہ دیکھیں تو سکوں ملتا نہیں ہے

Tabish Kamal

نہ دیکھیں تو سکوں ملتا نہیں ہے

ہمیں آخر وہ کیوں ملتا نہیں ہے

محبت کے لیے جذبہ ہے لازم

یہ آئینہ تو یوں ملتا نہیں ہے

ہم اک مدت سے در پر منتظر ہیں

مگر اذن جنوں ملتا نہیں ہے

ہے جتنا ظرف اتنی پاسداری

ضرورت ہے فزوں ملتا نہیں ہے

عجب ہوتی ہے آئندہ ملاقات

ہمیشہ جوں کا توں ملتا نہیں ہے

اگر ملتے بھی ہوں اپنے خیالات

تو اک دوجے سے خوں ملتا نہیں ہے

وہ میرے شہر میں رہتا ہے تابشؔ

مگر میں کیا کروں ملتا نہیں ہے