لا کے دنیا میں ہمیں زہر فنا دیتے ہیں
Qadr Bilgramiلا کے دنیا میں ہمیں زہر فنا دیتے ہیں
ہائے اس بھول بھلیاں میں دغا دیتے ہیں
رحم بھی ظلم و ستم سے نہیں خالی ان کا
دامن تیغ سے زخموں کو ہوا دیتے ہیں
دل میں درد آنکھوں میں آشوب جگر میں سوزش
عشق کیا دیتے ہیں اک روگ لگا دیتے ہیں
منعموں کا نہیں دریوزہ گروں پر احساں
آپ کیا دیں گے وہ خالق کا دیا دیتے ہیں
دہن یار کی تعریف لکھی کیا کہنا
قدرؔ تو جھوٹ کو سچ کر کے دکھا دیتے ہیں