بڑے نازوں سے دل میں جلوۂ جانانہ آتا ہے

Qadr Bilgrami

بڑے نازوں سے دل میں جلوۂ جانانہ آتا ہے

یہ گھر جس نے بنایا ہے وہ وہ صاحب خانہ آتا ہے

خدا کے واسطے منہ سے لگا دے خم کے خم ساقی

بڑا گھنگھور بادل جانب مے خانہ آتا ہے

نکل جاتا ہے منہ سے نام ان کا باتوں باتوں میں

زباں پر جو نہ آنا تھا وہ بیتابانہ آتا ہے

نکلتی ہے کسی پر جھوم کر وہ مجھ پہ گرتی ہے

تمہاری تیغ کو کیا شیوۂ مستانہ آتا ہے

بہار آخر ہوئی ہے قدرؔ کی تربت پہ میلا ہے

یہاں بیڑی بڑھانے کو ہر اک دیوانہ آتا ہے