دولت نہیں جب تک یہ زبوں رہتے ہیں

سید محمد عبد الغفور شہباز

دولت نہیں جب تک یہ زبوں رہتے ہیں

محراب دعا میں سرنگوں رہتے ہیں

آ جاتی ہے جس وقت گھر ان کے دولت

پھر کیا ہے یہ سرگرم جنوں رہتے ہیں