یہ شہر آفتوں سے تو خالی کوئی نہ تھا
Tabish Kamalیہ شہر آفتوں سے تو خالی کوئی نہ تھا
جب ہم سخی ہوئے تو سوالی کوئی نہ تھا
لکھا ہے داستاں میں کہ گلشن اجڑتے وقت
گلچیں بے شمار تھے مالی کوئی نہ تھا
اس دشت میں مرا ہی ہیولیٰ تھا ہر طرف
میں نے ہی شمع عشق جلا لی کوئی نہ تھا
جلسے اجڑ گئے تھے کسی خود فریب کے
خود ہی بجا رہا تھا وہ تالی کوئی نہ تھا
تابشؔ ہر ایک دل میں شرارے تھے قہر کے
ہو پاس جس کے سوز بلالی کوئی نہ تھا