خواب کی سلطنت سے ادھر

Tabish Kamal

خواب کی سلطنت سے ادھر

اک جہاں ہے جسے آنکھ آباد کر لے تو کر لے

وہاں سائے ہی سائے ہیں

اکثر و بیشتر دھوپ میں رقص کرتے ہوئے

ریز گاری کی آواز پر دھڑکنیں تال دیتی ہیں تو جھلملاتے ہیں

آنکھوں میں خواب

صبح سے شام تک

جیسے تمناؤں کو تھپکیاں دے شب ہجر میں ایک برہن کا دل

روز خوابوں کی پونجی میں سکوں کے گرنے سے اک گونج اٹھتی ہے

گویا کہیں ٹین کی چھت پہ بارش کے قطرے پڑیں

روز اک گھر تمنا کے ملبے سے آنکھوں کے پاتال میں جھانکتا ہے

وہی بے گھری بے زمینی کا دکھ آج تک مجھ کو گھیرے ہوئے ہے

میں چاند اور سورج کی صورت فلک در فلک تیرتا ہوں

مرے خواب مجھ کو اڑائے لیے جا رہے ہیں

میں پامال ہوتی ہوئی آرزو میں کہاں تک جیوں گا