کیا کہوں وہ کدھر نہیں رہتا

Tabish Kamal

کیا کہوں وہ کدھر نہیں رہتا

ہاں مگر اس نگر نہیں رہتا

تو ہو تیرا خیال ہو یا خواب

کوئی بھی رات بھر نہیں رہتا

جب سکوں ہی نہ دے سکے تو پھر

گھر کسی طور گھر نہیں رہتا

جس گھڑی چاہو تم چلے آؤ

میں کوئی چاند پر نہیں رہتا

یوں تو اپنی بھی جستجو ہے مجھے

تجھ سے بھی بے خبر نہیں رہتا

دل فگاروں کے شہر میں تابشؔ

ایک بھی بخیہ گر نہیں رہتا