جو ہے عرش پر وہی فرش پر کوئی خاص اس کا مکاں نہیں

Qadr Bilgrami

جو ہے عرش پر وہی فرش پر کوئی خاص اس کا مکاں نہیں

وہ یہاں بھی ہے وہ وہاں بھی ہے وہ کہیں نہیں وہ کہاں نہیں

یہ نصیب تیرے شہید کا کہ کمال شوق تھا دید کا

جو گلا بھی ہے تو وہ تر نہیں جو چھری بھی ہر تو رواں نہیں

میں وہ سرو باغ وجود ہوں میں وہ گل ہوں شمع حیات کا

جسے فصل گل کی خوشی نہیں جسے رنج باد خزاں نہیں

جو اٹھے تو سینہ ابھار کر جو چلے تو ٹھوکریں مار کر

نئے آپ ہی تو جوان ہیں کوئی کیا جہاں میں جواں نہیں

کدھر اڑ گیا مرا قافلہ کہ زمین پھٹ کے سما گیا

نہ غبار اٹھا نہ جرس بجا کہیں نقش پا کا نشاں نہیں

یہ مے فرنگ کی کشتیاں بھی سفینہ ہائے نجات ہیں

کبھی اس کا بیڑا نہ پار ہو جو مرید پیر مغاں نہیں

اٹھو قدرؔ ان پہ نہ جان دو اجی جان ہے تو جہان ہے

کوئی کام ایسا بھی کرتا ہے ارے میاں نہیں ارے میاں نہیں