یقیں سے جو گماں کا فاصلہ ہے

Tabish Kamal

یقیں سے جو گماں کا فاصلہ ہے

زمیں سے آسماں کا فاصلہ ہے

ہوا پیمائی کی خواہش ہے اتنی

کہ جتنا بادباں کا فاصلہ ہے

خیالات اس قدر ہیں مختلف کیوں

ہمارے درمیاں کا فاصلہ ہے

کوئی اظہار کر سکتا ہے کیسے

یہ لفظوں سے زباں کا فاصلہ ہے

میں اس تک کس طرح پہنچوں گا تابشؔ

یہاں سے اس جہاں کا فاصلہ ہے