Poetry
Poet
Meter
- جو نہیں ہے اسی کھلے در کوجا رہا ہوں میں چھوڑ کر گھر کوOm Prabhakar (b. 1941)
- جہاں چھو کے دیکھوں وہیں پر خلا ہےہوا میں ہوا کے سوا اور کیا ہےOm Prabhakar (b. 1941)
- جہاں زمیں سے جڑا آسمان دکھتا ہےاسی جگہ مجھے اپنا مکان دکھتا ہےOm Prabhakar (b. 1941)
- چند الفاظ کچھ احوال بچا رکھے ہیںہم نے دو ایک ہی اعمال بچا رکھے ہیںOm Prabhakar (b. 1941)
- خوشبو کا بھی وہی ہے جو ہے چلن ہوا کااس کا بدن ہوا کا ہے پیرہن ہوا کاOm Prabhakar (b. 1941)
- سب ہیں سو میں بھی اس سفر میں ہوںدن میں گردش میں رات گھر میں ہوںOm Prabhakar (b. 1941)
- سر پہ دست ہوا ہے صدیوں سےغیب کا آسرا ہے صدیوں سےOm Prabhakar (b. 1941)
- کسی زمیں سے کسی آسماں سے آتے ہیںوہ چند لفظ دھڑکتے ہیں جو دلوں کی طرحOm Prabhakar (b. 1941)
- کل سماعت دکھی صدا کو دوںجسم دھرتی کو جاں ہوا کو دوںOm Prabhakar (b. 1941)
- کوئی شکوہ کوئی گلہ رکھیےکچھ نہ کچھ جاری سلسلہ رکھیےOm Prabhakar (b. 1941)
- گزر گیا جو نظر سے نظر کا حصہ ہےشجر سے اڑتا پرندہ شجر کا حصہ ہےOm Prabhakar (b. 1941)
- میرے پیروں تلے جو دھرتی ہےمیرے ہاتھوں ہی وہ بکھرتی ہےOm Prabhakar (b. 1941)
- میں گہری نیند میں تھا جب کہ یہ بھیجی گئی دنیااب استعمال کرنی ہے مجھے دے دی گئی دنیاOm Prabhakar (b. 1941)
- نکلے ہیں دیوار سے چہرےبجھے بجھے بیمار سے چہرےOm Prabhakar (b. 1941)
- ہماری خلوتوں کی دھن در و دیوار سنتے ہیںچمن کے رنگ و بو کی بندشوں کو خار سنتے ہیںOm Prabhakar (b. 1941)
- یاد رکھنے سے بھول جانے سےکٹ گئے دن کسی بہانے سےOm Prabhakar (b. 1941)
- آج تک بہکا نہیں باہر سے دیوانہ تراحوصلے میری نگاہوں کے ہیں پیمانہ تراLutf-ur-rahman (b. 1941)
- اتنا چپ چاپ تعلق پہ زوال آیا تھادل ہی رویا تھا نہ چہرے پہ ملال آیا تھاLutf-ur-rahman (b. 1941)
- بہت مزا تھا اڑان میں بھییقیں تھا روشن گمان میں بھیLutf-ur-rahman (b. 1941)
- تو ہی اس شہر میں ہے ایک شناسا میریاب کہیں لے کے مجھے چل شب تنہا میریLutf-ur-rahman (b. 1941)
- جب دل میں تیری یاد نہ آنکھوں میں نیند تھیایسی بھی ایک رات مجھے کاٹنی پڑیLutf-ur-rahman (b. 1941)
- سڑک کی بھیڑ میں جو کھو گیا ہےوہ تنہا شخص اب تنہا ہوا ہےLutf-ur-rahman (b. 1941)
- سنگ طفلاں کا ہدف جسم ہمارا نکلاہم تو جس شہر گئے شہر تمہارا نکلاLutf-ur-rahman (b. 1941)
- عبارت سے ورق عاری رہے گامگر لکھنا مرا جاری رہے گاLutf-ur-rahman (b. 1941)
- مجھ میں بہتی ہے پاگل ہوا کون سیکون سی ہے یہ باد صبا کون سیLutf-ur-rahman (b. 1941)
- میں اپنے آپ کو آواز دے رہا ہوں ابھیاک ایک حرف مری تشنگی کا ضامن ہےLutf-ur-rahman (b. 1941)
- میں ٹوٹتا رہوں ایسی تری رضا تو نہیںہوائے تند میں شامل تری ادا تو نہیںLutf-ur-rahman (b. 1941)
- میں دور ہو کے بھی اس سے کبھی جدا نہ ہواکہ اس کے بعد کسی کا بھی آشنا نہ ہواLutf-ur-rahman (b. 1941)
- نہیں یہ ضد کہ ہر اک درد تو مرا لے جاجو ہو سکے تو یہ برسوں کا رت جگا لے جاLutf-ur-rahman (b. 1941)
- ہم کو کچھ یاد نہیں تیرے سوا بھول گئےاپنی صورت ہی نہیں اپنی صدا بھول گئےLutf-ur-rahman (b. 1941)
- یوں نکلتی ہے مری بات دہن سے اس کےجیسے برسوں کا تعارف ہو بدن سے اس کےLutf-ur-rahman (b. 1941)
- جب سے بسا ہے دل میں تری دل کشی کا رنگیک رنگ ہو گیا ہے مری زندگی کا رنگZafar Mujeebi (b. 1941)
- جب سے تم نے دے دیا ہے دل کا نذرانہ مجھےکہہ رہی ہے ساری دنیا تیرا دیوانہ مجھےZafar Mujeebi (b. 1941)
- حرم کی راہ میں سنتے ہیں اک بت خانہ آتا ہےاسی منزل پہ شاید دوست کا کاشانہ آتا ہےZafar Mujeebi (b. 1941)
- راہ سفر میں آج یہ منظر بھی آئے گاگلشن کے ساتھ جلتا ہوا گھر بھی آئے گاZafar Mujeebi (b. 1941)
- روکے گا قدم کیوں کر رستے کا خطر میراجب تک کہ سلامت ہے یہ ذوق سفر میراZafar Mujeebi (b. 1941)
- عدم کے جانے والوں کو بلایا جا نہیں سکتاکچھ ایسی نیند سوئے ہیں جگایا جا نہیں سکتاZafar Mujeebi (b. 1941)
- غم فراق میں جاں لب پہ آئی ہے صاحبیہی تو ساعت مشکل کشائی ہے صاحبZafar Mujeebi (b. 1941)
- کبھی تو نظر کرم مجھ پہ خوب رو کرتےتمام عمر کٹی ان کی آرزو کرتےZafar Mujeebi (b. 1941)
- کوئی لاکھ تم سے خفا رہے نہ کسی کو خود سے جدا کرویہی زندگی کا اصول ہے گلے سب سے بڑھ کے ملا کروZafar Mujeebi (b. 1941)
- آنکھیں موندے سب کچھ بھولے کب سے یوں ہی بیٹھے ہیںپلکوں پہ کچھ خواب سجائے جاگے جاگے سوئے ہیںHafeez Betab (b. 1941)
- اپنی پلکوں پہ کچھ نمی لے کراب وہ آئے ہیں زندگی لے کرHafeez Betab (b. 1941)
- پلکوں پہ کوئی خواب سجایا نہیں گیاوہ شخص ساری عمر بھلایا نہیں گیاHafeez Betab (b. 1941)
- جب دشت تمنا میں کوئی پھول کھلا ہےشہر دل خاموش سے اک شور اٹھا ہےHafeez Betab (b. 1941)
- خیال و خواب کی زلفیں سنوار تھوڑی دیرابھی ہے اور شب انتظار تھوڑی دیرHafeez Betab (b. 1941)
- لفظ و معنی کی یہ سب جھوٹی نمائش چھوڑ دےیوں ہمہ دانی کی ناداں اپنی خواہش چھوڑ دےHafeez Betab (b. 1941)
- لو دینے لگا ہے تری یادوں کا دیا پھربہکے نہ کہیں دیکھنا جنگل کی ہوا پھرHafeez Betab (b. 1941)
- مری وفا کا نہ سوچا تھا یہ صلہ دے گاسمجھ کے حرف غلط وہ مجھے مٹا دے گاHafeez Betab (b. 1941)
- جو ذہن و دل میں اکٹھا تھا آس کا پانیاسے بھی لے گیا ساتھ اپنے یاس کا پانیZaheer Ahmad Zaheer (b. 1941)
- حوصلے جینے کے دل کو بے بسی دیتی رہیآرزو پژمردگی کو تازگی دیتی رہیZaheer Ahmad Zaheer (b. 1941)