سڑک کی بھیڑ میں جو کھو گیا ہے
Lutf-ur-rahman (b. 1941)سڑک کی بھیڑ میں جو کھو گیا ہے
وہ تنہا شخص اب تنہا ہوا ہے
کرن کے ہاتھ میں نیزہ ہے جب سے
مرا سایہ بہت گھبرا رہا ہے
فصیل جسم سے آگے کا رستہ
دھوئیں کے بادلوں میں کھو گیا ہے
مرے سینے کے اس اندھے کنوئیں میں
نہ جانے کس لیے وہ جھانکتا ہے
اسے آئینہ دکھلاؤ گے کیسے
وہ آدم زاد ہم سب کا خدا ہے
جبین شاخ پر کس بے کسی سے
لہو خورشید کا پھیلا ہوا ہے
سجا ہے جب سے شہرت کی دکاں میں
وہ پتھر تب سے ہیرا بن گیا ہے