غم فراق میں جاں لب پہ آئی ہے صاحب

Zafar Mujeebi (b. 1941)

غم فراق میں جاں لب پہ آئی ہے صاحب

یہی تو ساعت مشکل کشائی ہے صاحب

ستم جو ڈھاتے ہو عاشق پہ تم کو کون کہے

تمہارے ساتھ تو ساری خدائی ہے صاحب

بیان صدمۂ فرقت سے دم نکلتا ہے

نہ پوچھئے جو مصیبت اٹھائی ہے صاحب

ہزار چاہا پہ خنجر نہ چل سکا تم سے

رگ گلو بھی مری رنگ لائی ہے صاحب

ظفرؔ سے آپ کو شکوہ عجیب بات ہے یہ

رقیب کی یہ لگائی بجھائی ہے صاحب