میں ٹوٹتا رہوں ایسی تری رضا تو نہیں

Lutf-ur-rahman (b. 1941)

میں ٹوٹتا رہوں ایسی تری رضا تو نہیں

ہوائے تند میں شامل تری ادا تو نہیں

میں چونک اٹھا ہوں بہت اپنی چپ کے صحرا میں

جو آ رہی ہے کہیں میری ہی صدا تو نہیں

نہ جانے کون سی منزل شکست کی آئی

مری پکار میں پہلے یہ درد تھا تو نہیں

فغاں پہ تنگ ہوا لفظ و صوت کا صحرا

مرا خرابۂ جاں بے کنار تھا تو نہیں

گزر سکا نہ کوئی اس دیار سے اب تک

سکوت دل کے پس پردہ اک خلا تو نہیں