حوصلے جینے کے دل کو بے بسی دیتی رہی
Zaheer Ahmad Zaheer (b. 1941)حوصلے جینے کے دل کو بے بسی دیتی رہی
آرزو پژمردگی کو تازگی دیتی رہی
میں نے اپنے آگے ان کو سر اٹھانے نہ دیا
حادثوں کو مات میری سرکشی دیتی رہی
رہ گیا میں ناز برداری میں اس کی عمر بھر
زندگی مجھ کو فریب زندگی دیتی رہی
خون دل دیتا رہا میں شمع ہستی کو سدا
اور یہ اوروں کو اپنی روشنی دیتی رہی
اک طرف دیتی رہی مجھ کو اجل اپنا پیام
اک طرف آواز مجھ کو زندگی دیتی رہی
گر پڑے قدموں پہ آ کے تاج شاہوں کے ظہیرؔ
یہ وقار اور شان عظمت سادگی دیتی رہی