Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. زرد پیڑوں پہ شام ہے گریاںجی اداسی کے دشت میں حیراںParkash Fikri (1931–2008)
  2. شبنم بھیگی گھاس پہ چلنا کتنا اچھا لگتا ہےپاؤں تلے جو موتی بکھریں جھلمل رستہ لگتا ہےParkash Fikri (1931–2008)
  3. عجیب رت ہے درختوں کو بے زباں دیکھوںدیار شام میں آہوں کا میں دھواں دیکھوںParkash Fikri (1931–2008)
  4. کالی راتوں میں فصیل درد اونچی ہو گئیاندھی گلیوں میں خموشی لاش بن کے سو گئیParkash Fikri (1931–2008)
  5. کسی کا نقش اندھیرے میں جب ابھر آیااداس چہرہ شب درد کا نکھر آیاParkash Fikri (1931–2008)
  6. کل لہکتی چاندنی نے اور بھی تنہا کیامیں اندھیرے بند کمرے میں پڑا رویا کیاParkash Fikri (1931–2008)
  7. مرے آنگن میں پیلی دھوپ جب دیوار سے اتریاندھیرے کی سیہ چادر نہ جانے اور کیوں پھیلیParkash Fikri (1931–2008)
  8. وہ رابطے بھی انوکھے جو دوریاں برتیںوہ قربتیں بھی نرالی جو لمس کو ترسیںParkash Fikri (1931–2008)
  9. ہوا سے اجڑ کر بکھر کیوں گئےوہ پتے جو سرسبز شاخوں پہ تھےParkash Fikri (1931–2008)
  10. ہوا سے زرد پتے گر رہے ہیںکتابوں کے ورق بکھرے پڑے ہیںParkash Fikri (1931–2008)
  11. یہ جو جگنو ہیں یا ستارے ہیںہم میں روشن ہیں یہ ہمارے ہیںParkash Fikri (1931–2008)
  12. جدھر دیکھو لہو بکھرا ہوا ہےنشانہ کون گولی کا بنا ہےParkash Fikri (1931–2008)
  13. لرزاں ہے کسی خوف سے جو شام کا چہرہآنکھوں میں کوئی خواب پرونے نہیں دیتاParkash Fikri (1931–2008)
  14. مجھے تو یوں بھی اسی راہ سے گزرنا تھادل تباہ کا کچھ تو علاج کرنا تھاParkash Fikri (1931–2008)
  15. مردہ پڑے تھے لوگ گھروں کی پناہ میںدریا وفور غیظ سے بپھرا تھا چار سوParkash Fikri (1931–2008)
  16. یوں تو اپنوں سا کچھ نہیں اس میںپھر بھی غیروں سے وہ الگ سا ہےParkash Fikri (1931–2008)
  17. اب نہیں کوئی مرے دل کو دکھانے والایاد آتا ہے بہت روٹھ کے جانے والاDanish Aligarhi (b. 1931)
  18. اک ستاروں بھرا آسماں ہو گئےاب خدا کی قسم تم جواں ہو گئےDanish Aligarhi (b. 1931)
  19. تم نے جب زلف پریشاں کو سنوارا ہوگاصدقۂ حسن گھٹاؤں نے اتارا ہوگاDanish Aligarhi (b. 1931)
  20. جیسے اس بستی سے ناراض خدا لگتا ہےاپنا ہی گاؤں مجھے آج برا لگتا ہےDanish Aligarhi (b. 1931)
  21. خشک آنکھوں میں بہت ہیں ابھی آنسو باقیپھول سوکھے ہیں مگر ان میں ہے خوشبو باقیDanish Aligarhi (b. 1931)
  22. خوشی کا نام سنا ہے مگر خوشی کیا ہےترے بغیر جو گزرے وہ زندگی کیا ہےDanish Aligarhi (b. 1931)
  23. ذرے ذرے میں مہک پیار کی ڈالی جائےبو تعصب کی ہر اک دل سے نکالی جائےDanish Aligarhi (b. 1931)
  24. زندگی کر گئی طوفاں کے حوالے مجھ کواے اجل کشمکش غم سے چھڑا لے مجھ کوDanish Aligarhi (b. 1931)
  25. شرم سے اس نے نگاہوں کو ملانے نہ دیاضبط نے حال دل زار سنانے نہ دیاDanish Aligarhi (b. 1931)
  26. ظالم سے محبت کا صلہ مانگ رہے ہیںنادان ہیں پتھر سے وفا مانگ رہے ہیںDanish Aligarhi (b. 1931)
  27. عجیب قید لگائی ہے تم نے پیار کے ساتھخزاں نصیب رہوں رہ کے میں بہار کے ساتھDanish Aligarhi (b. 1931)
  28. قریب تم ہو تو ہر اک سے دوستی سی لگےجو تم ہو دور تو ذات اپنی اجنبی سی لگےDanish Aligarhi (b. 1931)
  29. کیا خبر تھی منحرف اہل جہاں ہو جائیں گےہوتے ہوتے مہرباں نا مہرباں ہو جائیں گےDanish Aligarhi (b. 1931)
  30. واعظ تو اگر ان کے کوچے سے گزر جائےفردوس کا منظر بھی نظروں سے اتر جائےDanish Aligarhi (b. 1931)
  31. ہنگامہ کس لیے ہے بپا تیرے شہر میںکیا پھر کوئی غریب لٹا تیرے شہر میںDanish Aligarhi (b. 1931)
  32. یہ کیسے کہہ دوں کہ کچھ تم سے واسطہ ہی نہیںبچھڑ کے تم سے کہیں اور دل لگا ہی نہیںDanish Aligarhi (b. 1931)
  33. تیرے فراق نے کی زندگی عطا مجھ کوتیرا وصال جو ملتا تو مر گیا ہوتاDanish Aligarhi (b. 1931)
  34. آ گئی پھر ان کو میری یاد کیاکر لیا تازہ ستم ایجاد کیاZafar Naseemi (b. 1931)
  35. اب تو جگنو بھی نہیں راہ دکھانے والاشہر میں قید ہوا گاؤں سے آنے والاZafar Naseemi (b. 1931)
  36. اس نے کچھ مجھ سے کہا تھا شایدیا مجھے وہم ہوا تھا شایدZafar Naseemi (b. 1931)
  37. جذبۂ عشق کا معیار سنبھالے ہوئے ہیںآج تک ہم رسن و دار سنبھالے ہوئے ہیںZafar Naseemi (b. 1931)
  38. رسوائی کے خیال سے ڈر تو نہیں گئےوہ راستہ بدل کے گزر تو نہیں گئےZafar Naseemi (b. 1931)
  39. روایت تھی یہ سمجھوتا نہیں تھامیں سب کا تھا کوئی میرا نہیں تھاZafar Naseemi (b. 1931)
  40. روح شاداب دل غنی کر لوہم فقیروں سے دوستی کر لوZafar Naseemi (b. 1931)
  41. زندگی سے امید راحت کیازندہ رہنے کی بھی ضمانت کیاZafar Naseemi (b. 1931)
  42. شجر بولتے ہیں حجر بولتے ہیںسفر میں مرے ہم سفر بولتے ہیںZafar Naseemi (b. 1931)
  43. عجیب لطف محبت کی داستان میں ہےوفا کا تذکرہ دنیا کی ہر زبان میں ہےZafar Naseemi (b. 1931)
  44. عشق میں برباد ہونے پر پشیمانی تو ہےپھر بھی میری قدر و قیمت اس نے پہچانی تو ہےZafar Naseemi (b. 1931)
  45. میں نئے عزم سفر سے نکلاسر پہ سورج لئے گھر سے نکلاZafar Naseemi (b. 1931)
  46. نوک قلم کو جرأت اظہار دے گیایہ کون میرے ہاتھ میں تلوار دے گیاZafar Naseemi (b. 1931)
  47. نہ چھیڑ نام و نسب اور نسل و رنگ کی باتکہ چل نکلتی ہے اکثر یہیں سے جنگ کی باتZafar Naseemi (b. 1931)
  48. ہائے کیا پر فریب سازش ہےشہر کا شہر نذر آتش ہےZafar Naseemi (b. 1931)
  49. میں ایک بار زہر بھی پی لوں گا شوق سےقسطوں میں زہر پینے کی زحمت مگر نہ دےZafar Naseemi (b. 1931)
  50. بس اسی حد تک جہان رنگ و بو اچھا لگااک جوان سرو قد اک خوبرو اچھا لگاRafeeq Jabir (b. 1931)