Poetry
Poet
Meter
- زرد پیڑوں پہ شام ہے گریاںجی اداسی کے دشت میں حیراںParkash Fikri (1931–2008)
- شبنم بھیگی گھاس پہ چلنا کتنا اچھا لگتا ہےپاؤں تلے جو موتی بکھریں جھلمل رستہ لگتا ہےParkash Fikri (1931–2008)
- عجیب رت ہے درختوں کو بے زباں دیکھوںدیار شام میں آہوں کا میں دھواں دیکھوںParkash Fikri (1931–2008)
- کالی راتوں میں فصیل درد اونچی ہو گئیاندھی گلیوں میں خموشی لاش بن کے سو گئیParkash Fikri (1931–2008)
- کسی کا نقش اندھیرے میں جب ابھر آیااداس چہرہ شب درد کا نکھر آیاParkash Fikri (1931–2008)
- کل لہکتی چاندنی نے اور بھی تنہا کیامیں اندھیرے بند کمرے میں پڑا رویا کیاParkash Fikri (1931–2008)
- مرے آنگن میں پیلی دھوپ جب دیوار سے اتریاندھیرے کی سیہ چادر نہ جانے اور کیوں پھیلیParkash Fikri (1931–2008)
- وہ رابطے بھی انوکھے جو دوریاں برتیںوہ قربتیں بھی نرالی جو لمس کو ترسیںParkash Fikri (1931–2008)
- ہوا سے اجڑ کر بکھر کیوں گئےوہ پتے جو سرسبز شاخوں پہ تھےParkash Fikri (1931–2008)
- ہوا سے زرد پتے گر رہے ہیںکتابوں کے ورق بکھرے پڑے ہیںParkash Fikri (1931–2008)
- یہ جو جگنو ہیں یا ستارے ہیںہم میں روشن ہیں یہ ہمارے ہیںParkash Fikri (1931–2008)
- جدھر دیکھو لہو بکھرا ہوا ہےنشانہ کون گولی کا بنا ہےParkash Fikri (1931–2008)
- لرزاں ہے کسی خوف سے جو شام کا چہرہآنکھوں میں کوئی خواب پرونے نہیں دیتاParkash Fikri (1931–2008)
- مجھے تو یوں بھی اسی راہ سے گزرنا تھادل تباہ کا کچھ تو علاج کرنا تھاParkash Fikri (1931–2008)
- مردہ پڑے تھے لوگ گھروں کی پناہ میںدریا وفور غیظ سے بپھرا تھا چار سوParkash Fikri (1931–2008)
- یوں تو اپنوں سا کچھ نہیں اس میںپھر بھی غیروں سے وہ الگ سا ہےParkash Fikri (1931–2008)
- اب نہیں کوئی مرے دل کو دکھانے والایاد آتا ہے بہت روٹھ کے جانے والاDanish Aligarhi (b. 1931)
- اک ستاروں بھرا آسماں ہو گئےاب خدا کی قسم تم جواں ہو گئےDanish Aligarhi (b. 1931)
- تم نے جب زلف پریشاں کو سنوارا ہوگاصدقۂ حسن گھٹاؤں نے اتارا ہوگاDanish Aligarhi (b. 1931)
- جیسے اس بستی سے ناراض خدا لگتا ہےاپنا ہی گاؤں مجھے آج برا لگتا ہےDanish Aligarhi (b. 1931)
- خشک آنکھوں میں بہت ہیں ابھی آنسو باقیپھول سوکھے ہیں مگر ان میں ہے خوشبو باقیDanish Aligarhi (b. 1931)
- خوشی کا نام سنا ہے مگر خوشی کیا ہےترے بغیر جو گزرے وہ زندگی کیا ہےDanish Aligarhi (b. 1931)
- ذرے ذرے میں مہک پیار کی ڈالی جائےبو تعصب کی ہر اک دل سے نکالی جائےDanish Aligarhi (b. 1931)
- زندگی کر گئی طوفاں کے حوالے مجھ کواے اجل کشمکش غم سے چھڑا لے مجھ کوDanish Aligarhi (b. 1931)
- شرم سے اس نے نگاہوں کو ملانے نہ دیاضبط نے حال دل زار سنانے نہ دیاDanish Aligarhi (b. 1931)
- ظالم سے محبت کا صلہ مانگ رہے ہیںنادان ہیں پتھر سے وفا مانگ رہے ہیںDanish Aligarhi (b. 1931)
- عجیب قید لگائی ہے تم نے پیار کے ساتھخزاں نصیب رہوں رہ کے میں بہار کے ساتھDanish Aligarhi (b. 1931)
- قریب تم ہو تو ہر اک سے دوستی سی لگےجو تم ہو دور تو ذات اپنی اجنبی سی لگےDanish Aligarhi (b. 1931)
- کیا خبر تھی منحرف اہل جہاں ہو جائیں گےہوتے ہوتے مہرباں نا مہرباں ہو جائیں گےDanish Aligarhi (b. 1931)
- واعظ تو اگر ان کے کوچے سے گزر جائےفردوس کا منظر بھی نظروں سے اتر جائےDanish Aligarhi (b. 1931)
- ہنگامہ کس لیے ہے بپا تیرے شہر میںکیا پھر کوئی غریب لٹا تیرے شہر میںDanish Aligarhi (b. 1931)
- یہ کیسے کہہ دوں کہ کچھ تم سے واسطہ ہی نہیںبچھڑ کے تم سے کہیں اور دل لگا ہی نہیںDanish Aligarhi (b. 1931)
- تیرے فراق نے کی زندگی عطا مجھ کوتیرا وصال جو ملتا تو مر گیا ہوتاDanish Aligarhi (b. 1931)
- آ گئی پھر ان کو میری یاد کیاکر لیا تازہ ستم ایجاد کیاZafar Naseemi (b. 1931)
- اب تو جگنو بھی نہیں راہ دکھانے والاشہر میں قید ہوا گاؤں سے آنے والاZafar Naseemi (b. 1931)
- اس نے کچھ مجھ سے کہا تھا شایدیا مجھے وہم ہوا تھا شایدZafar Naseemi (b. 1931)
- جذبۂ عشق کا معیار سنبھالے ہوئے ہیںآج تک ہم رسن و دار سنبھالے ہوئے ہیںZafar Naseemi (b. 1931)
- رسوائی کے خیال سے ڈر تو نہیں گئےوہ راستہ بدل کے گزر تو نہیں گئےZafar Naseemi (b. 1931)
- روایت تھی یہ سمجھوتا نہیں تھامیں سب کا تھا کوئی میرا نہیں تھاZafar Naseemi (b. 1931)
- روح شاداب دل غنی کر لوہم فقیروں سے دوستی کر لوZafar Naseemi (b. 1931)
- زندگی سے امید راحت کیازندہ رہنے کی بھی ضمانت کیاZafar Naseemi (b. 1931)
- شجر بولتے ہیں حجر بولتے ہیںسفر میں مرے ہم سفر بولتے ہیںZafar Naseemi (b. 1931)
- عجیب لطف محبت کی داستان میں ہےوفا کا تذکرہ دنیا کی ہر زبان میں ہےZafar Naseemi (b. 1931)
- عشق میں برباد ہونے پر پشیمانی تو ہےپھر بھی میری قدر و قیمت اس نے پہچانی تو ہےZafar Naseemi (b. 1931)
- میں نئے عزم سفر سے نکلاسر پہ سورج لئے گھر سے نکلاZafar Naseemi (b. 1931)
- نوک قلم کو جرأت اظہار دے گیایہ کون میرے ہاتھ میں تلوار دے گیاZafar Naseemi (b. 1931)
- نہ چھیڑ نام و نسب اور نسل و رنگ کی باتکہ چل نکلتی ہے اکثر یہیں سے جنگ کی باتZafar Naseemi (b. 1931)
- ہائے کیا پر فریب سازش ہےشہر کا شہر نذر آتش ہےZafar Naseemi (b. 1931)
- میں ایک بار زہر بھی پی لوں گا شوق سےقسطوں میں زہر پینے کی زحمت مگر نہ دےZafar Naseemi (b. 1931)
- بس اسی حد تک جہان رنگ و بو اچھا لگااک جوان سرو قد اک خوبرو اچھا لگاRafeeq Jabir (b. 1931)