Poetry
Poet
Meter
- کون آیا ہےکوئی نہیں آیا ہے پاگلJaun Elia (1931–2002)
- میں شاید تم کو یکسر بھولنے والا ہوںشاید جان جاں شایدJaun Elia (1931–2002)
- ایک ہی تو ہوس رہی ہے ہمیںاپنی حالت تباہ کی جائےJaun Elia (1931–2002)
- ساری دنیا کے غم ہمارے ہیںاور ستم یہ کہ ہم تمہارے ہیںJaun Elia (1931–2002)
- مستقل بولتا ہی رہتا ہوںکتنا خاموش ہوں میں اندر سےJaun Elia (1931–2002)
- میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بسخود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیںJaun Elia (1931–2002)
- میں جو ہوں جونؔ ایلیا ہوں جناباس کا بے حد لحاظ کیجئے گاJaun Elia (1931–2002)
- اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیںاشک بہہ جاتے ہیں لیکن آنکھ تر ہوتی نہیںQabil Ajmeri (1931–1962)
- اشکوں میں حسن دوست دکھاتی ہے چاندنیشبنم کو چار چاند لگاتی ہے چاندنیQabil Ajmeri (1931–1962)
- بقدر جوش جنوں تار تار بھی نہ کیاوہ پیرہن جسے نذر بہار بھی نہ کیاQabil Ajmeri (1931–1962)
- تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گےمیں رو رہا ہوں تم ہنس رہے ہو میں مسکرایا تو کیا کرو گےQabil Ajmeri (1931–1962)
- تم نہ مانو مگر حقیقت ہےعشق انسان کی ضرورت ہےQabil Ajmeri (1931–1962)
- تمہیں جو میرے غم دل سے آگہی ہو جائےجگر میں پھول کھلیں آنکھ شبنمی ہو جائےQabil Ajmeri (1931–1962)
- جہان آرزو آواز ہی آواز ہوتا ہےبڑی مشکل سے احساس شکست ساز ہوتا ہےQabil Ajmeri (1931–1962)
- حادثے زیست کی توقیر بڑھا دیتے ہیںاے غم یار تجھے ہم تو دعا دیتے ہیںQabil Ajmeri (1931–1962)
- حوادث ہم سفر اپنے تلاطم ہم عناں اپنازمانہ لوٹ سکتا ہے تو لوٹے کارواں اپناQabil Ajmeri (1931–1962)
- حیرتوں کے سلسلے سوز نہاں تک آ گئےہم نظر تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آ گئےQabil Ajmeri (1931–1962)
- دل دیوانہ عرض حال پر مائل تو کیا ہوگامگر وہ پوچھ بیٹھے خود ہی حال دل تو کیا ہوگاQabil Ajmeri (1931–1962)
- دن چھپا اور غم کے سائے ڈھلےآرزو کے نئے چراغ جلےQabil Ajmeri (1931–1962)
- صراحی کا بھرم کھلتا نہ میری تشنگی ہوتیذرا تم نے نگاہ ناز کو تکلیف دی ہوتیQabil Ajmeri (1931–1962)
- طلب کی آگ کسی شعلہ رو سے روشن ہےخیال ہو کہ نظر آرزو سے روشن ہےQabil Ajmeri (1931–1962)
- عالم سوز تمنا بے کراں کرتے چلوذرے ذرے کو شریک کارواں کرتے چلوQabil Ajmeri (1931–1962)
- غم چھیڑتا ہے ساز رگ جاں کبھی کبھیہوتی ہے کائنات غزل خواں کبھی کبھیQabil Ajmeri (1931–1962)
- مدتوں ہم نے غم سنبھالے ہیںاب تری یاد کے حوالے ہیںQabil Ajmeri (1931–1962)
- وہ کب آئیں خدا جانے ستارو تم تو سو جاؤہوئے ہیں ہم تو دیوانے ستارو تم تو سو جاؤQabil Ajmeri (1931–1962)
- وہ ہر مقام سے پہلے وہ ہر مقام کے بعدسحر تھی شام سے پہلے سحر ہے شام کے بعدQabil Ajmeri (1931–1962)
- ہستی کو اپنی شعلہ بداماں کریں گے ہمزنداں میں بھی گئے تو چراغاں کریں گے ہمQabil Ajmeri (1931–1962)
- ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہےوحشت بڑے دلچسپ دوراہے پہ کھڑی ہےQabil Ajmeri (1931–1962)
- آج جنوں کے ڈھنگ نئے ہیںتیری گلی بھی چھوٹ نہ جائےQabil Ajmeri (1931–1962)
- بہت کام لینے ہیں درد جگر سےکہیں زندگی کو قرار آ نہ جائےQabil Ajmeri (1931–1962)
- تم کو بھی شاید ہماری جستجو کرنی پڑےہم تمہاری جستجو میں اب یہاں تک آ گئےQabil Ajmeri (1931–1962)
- تمہاری گلیوں میں پھر رہا ہوںخیال رسم وفا ہے ورنہQabil Ajmeri (1931–1962)
- راستہ ہے کہ کٹتا جاتا ہےفاصلہ ہے کہ کم نہیں ہوتاQabil Ajmeri (1931–1962)
- غم جہاں کے تقاضے شدید ہیں ورنہجنون کوچۂ دلدار ہم بھی رکھتے ہیںQabil Ajmeri (1931–1962)
- کتنے شوریدہ سر محبت میںہو گئے کوچۂ صنم کی خاکQabil Ajmeri (1931–1962)
- کوچۂ یار مرکز انواراپنے دامن میں دشت غم کی خاکQabil Ajmeri (1931–1962)
- کوئی دیوانہ چاہے بھی تو لغزش کر نہیں سکتاترے کوچے میں پاؤں لڑکھڑانا بھول جاتے ہیںQabil Ajmeri (1931–1962)
- میں اپنے غم خانۂ جنوں میںتمہیں بلانا بھی جانتا ہوںQabil Ajmeri (1931–1962)
- وقت کرتا ہے پرورش برسوںحادثہ ایک دم نہیں ہوتاQabil Ajmeri (1931–1962)
- یہ گردش زمانہ ہمیں کیا مٹائے گیہم ہیں طواف کوچۂ جاناں کیے ہوئےQabil Ajmeri (1931–1962)
- آندھیاں آتی ہیں اور پیڑ گرا کرتے ہیںحادثے یہ تو یہاں روز ہوا کرتے ہیںParkash Fikri (1931–2008)
- آنکھ پتھر کی طرح عکس سے خالی ہوگیخون ناحق کی مگر جسم پہ لالی ہوگیParkash Fikri (1931–2008)
- پتھر کی ہتھیلی پہ کوئی پھول اگا دےذروں کی تب و تاب سے سورج کو جلا دےParkash Fikri (1931–2008)
- پہاڑوں سے اترتی شام کی بے چارگی دیکھیںدرختوں پر لرز کر بجھ رہی ہیں آخری کرنیںParkash Fikri (1931–2008)
- جس کا بدن گلاب تھا وہ یار بھی نہیںاب کے برس بہار کے آثار بھی نہیںParkash Fikri (1931–2008)
- جھوٹی حقیقتوں کی طرح لوگ مر گئےلیکن دلوں پہ نقش وہ تصویر کر گئےParkash Fikri (1931–2008)
- چاندی جیسی جھلمل مچھلی پانی پگھلے نیلم ساشاخیں جس پر جھکی ہوئی ہیں دریا بہتے سرگم ساParkash Fikri (1931–2008)
- دشمنی کی اس ہوا کو تیز ہونا چاہئےاس کی کشتی کو سر ساحل ڈبونا چاہئےParkash Fikri (1931–2008)
- رفتہ رفتہ سب مناظر کھو گئے اچھا ہواشور کرتے تھے پرندے سو گئے اچھا ہواParkash Fikri (1931–2008)
- رنگین خواب آس کے نقشے جلا بھی دےجاں پہ بنی ہے روشنی اس کو بجھا بھی دےParkash Fikri (1931–2008)