قریب تم ہو تو ہر اک سے دوستی سی لگے
Danish Aligarhi (b. 1931)قریب تم ہو تو ہر اک سے دوستی سی لگے
جو تم ہو دور تو ذات اپنی اجنبی سی لگے
خدا ہی جانے حیات اپنی کس طرح گزرے
بغیر ان کے تو اک پل بھی اک صدی سی لگے
تم اپنا کہہ کے پکارو کبھی تو بھولے سے
یہ زندگی کبھی ہم کو بھی زندگی سی لگے
نوازشات کا طالب نہیں ہوں میں لیکن
اب اس طرح بھی نہ مل جس سے بے رخی سی لگے
نہ پوچھ کیفیت انتظار اے ہمدم
کہ تیز دھوپ بھی اس وقت چاندنی سی لگے
خوشی تو اپنے مقدر میں ہی نہیں دانشؔ
کسی کے غم کی یہ دولت بھی عارضی سی لگے