Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. پہلے جو تھا وہی ہے حال میاںعشق کو ہے کہاں زوال میاںRafeeq Jabir (b. 1931)
  2. درد ایسا کہ دوا ہو جیسےآج کچھ حد سے سوا ہو جیسےRafeeq Jabir (b. 1931)
  3. ذکر و ورد و دعا سے بہتر ہےمے کشی ہر ریا سے بہتر ہےRafeeq Jabir (b. 1931)
  4. زیست کی تاریک راہوں میں دیا کوئی نہیںاس سفر میں جز غم دل رہنما کوئی نہیںRafeeq Jabir (b. 1931)
  5. غم دوراں کا مداوا غم جاناں بھی نہیںزیست دشوار نہیں ہے تو کچھ آساں بھی نہیںRafeeq Jabir (b. 1931)
  6. کتاب زیست کا عنواں بدل جاتا تو اچھا تھادل وحشی کسی صورت بہل جاتا تو اچھا تھاRafeeq Jabir (b. 1931)
  7. کوئی بتلاؤ کہ یہ ناؤ کہاں ٹھہرے گیکب قضا آئے گی کب عمر رواں ٹھہرے گیRafeeq Jabir (b. 1931)
  8. مہرباں کس پہ ہیں اب اہل جفا میرے بعدکس کے خرمن پہ گری برق بلا میرے بعدRafeeq Jabir (b. 1931)
  9. میرے جنون شوق کا عالم ہی اور تھاوہ ابتدائے عشق کا موسم ہی اور تھاRafeeq Jabir (b. 1931)
  10. ہجر انعام وفا ہو جیسےجرم الفت کی سزا ہو جیسےRafeeq Jabir (b. 1931)
  11. اے منڈیلا تری بے باک قیادت کو سلامسچ ہے انسان کی توقیر بڑھا دی تو نےRafeeq Jabir (b. 1931)
  12. اک درد سا پہلو میں مچلتا ہے سر شامجب چاند جھروکے میں نکلتا ہے سر شامHafiz Taib (1931–2004)
  13. اک نیا کرب مرے دل میں جنم لیتا ہےقافلہ درد کا کچھ دیر جو دم لیتا ہےHafiz Taib (1931–2004)
  14. پتھر میں فن کے پھول کھلا کر چلا گیاکیسے امٹ نقوش کوئی چھوڑتا گیاHafiz Taib (1931–2004)
  15. دے تبسم کی خیرات ماحول کو ہم کو درکار ہے روشنی یا نبیایک شیریں جھلک ایک رنگیں ڈلک تلخ و تاریک ہے زندگی یا نبیHafiz Taib (1931–2004)
  16. شرر افشاں وہ شرر خو بھی نہیںکوئی تارا کوئی جگنو بھی نہیںHafiz Taib (1931–2004)
  17. لفظ سے جب نہ اٹھا بار خیالکیسے کیسے کیا اظہار خیالHafiz Taib (1931–2004)
  18. وہ جو تیری طلب میں ایذا تھیمیرے ہر درد کا مداوا تھیHafiz Taib (1931–2004)
  19. آتش و انجماد ہے مجھ میںکیسا کیسا تضاد ہے مجھ میںZafar Iqbal (b. 1932)
  20. آگ کا رشتہ نکل آئے کوئی پانی کے ساتھزندہ رہ سکتا ہوں ایسی ہی خوش امکانی کے ساتھZafar Iqbal (b. 1932)
  21. ابھی آنکھیں کھلی ہیں اور کیا کیا دیکھنے کومجھے پاگل کیا اس نے تماشا دیکھنے کوZafar Iqbal (b. 1932)
  22. ابھی تو کرنا پڑے گا سفر دوبارہ مجھےابھی کریں نہیں آرام کا اشارہ مجھےZafar Iqbal (b. 1932)
  23. ابھی کسی کے نہ میرے کہے سے گزرے گاوہ خود ہی ایک دن اس دائرے سے گزرے گاZafar Iqbal (b. 1932)
  24. اپنے انکار کے برعکس برابر کوئی تھادل میں اک خواب تھا اور خواب کے اندر کوئی تھاZafar Iqbal (b. 1932)
  25. اتنا ٹھہرا ہوا ماحول بدلنا پڑ جائےباہر اپنے ہی کناروں سے اچھلنا پڑ جائےZafar Iqbal (b. 1932)
  26. اٹھ اور پھر سے روانہ ہو ڈر زیادہ نہیںبہت کٹھن سہی منزل سفر زیادہ نہیںZafar Iqbal (b. 1932)
  27. اسی سے آئے ہیں آشوب آسماں والےجسے غبار سمجھتے تھے کارواں والےZafar Iqbal (b. 1932)
  28. اسے منظور نہیں چھوڑ جھگڑتا کیا ہےدل ہی کم مایہ ہے اپنا تو اکڑتا کیا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  29. اگر اس کھیل میں اب وہ بھی شامل ہونے والا ہےتو اپنا کام پہلے سے بھی مشکل ہونے والا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  30. الزام ایک یہ بھی اٹھا لینا چاہیئےاس شہر بے اماں کو بچا لینا چاہیئےZafar Iqbal (b. 1932)
  31. ایسا وہ بے شمار و قطار انتظار تھاپہلی ہی بار دوسری بار انتظار تھاZafar Iqbal (b. 1932)
  32. ایسی کوئی درپیش ہوا آئی ہمارےجو ساتھ ہی پتے بھی اڑا لائی ہمارےZafar Iqbal (b. 1932)
  33. ایک ہی بار نہیں ہے وہ دوبارہ کم ہےمیں وہ دریا ہوں جسے اپنا کنارہ کم ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  34. ایک ہی نقش ہے جتنا بھی جہاں رہ جائےآگ اڑتی پھرے ہر سو کہ دھواں رہ جائےZafar Iqbal (b. 1932)
  35. ایماں کے ساتھ خامی ایماں بھی چاہئےعزم سفر کیا ہے تو ساماں بھی چاہئےZafar Iqbal (b. 1932)
  36. بات ایسی بھی کوئی نہیں کہ محبت بہت زیادہ ہےلیکن ہم دونوں سے اس کی طاقت بہت زیادہ ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  37. بجلی گری ہے کل کسی اجڑے مکان پررونے لگوں کہ ہنس پڑوں اس داستان پرZafar Iqbal (b. 1932)
  38. بدلہ یہ لیا حسرت اظہار سے ہم نےآغاز کیا اپنے ہی انکار سے ہم نےZafar Iqbal (b. 1932)
  39. بس ایک بار کسی نے گلے لگایا تھاپھر اس کے بعد نہ میں تھا نہ میرا سایا تھاZafar Iqbal (b. 1932)
  40. بظاہر صحت اچھی ہے جو بیماری زیادہ ہےاسی خاطر بڑھاپے میں ہوس کاری زیادہ ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  41. بکھر بکھر گئے الفاظ سے ادا نہ ہوئےیہ زمزمے جو کسی درد کی دوا نہ ہوئےZafar Iqbal (b. 1932)
  42. بہت سلجھی ہوئی باتوں کو بھی الجھائے رکھتے ہیںجو ہے کام آج کا کل تک اسے لٹکائے رکھتے ہیںZafar Iqbal (b. 1932)
  43. بھول بیٹھا تھا مگر یاد بھی خود میں نے کیاوہ محبت جسے برباد بھی خود میں نے کیاZafar Iqbal (b. 1932)
  44. بینائی سے باہر کبھی اندر مجھے دیکھےممکن ہی نہیں ہے وہ برابر مجھے دیکھےZafar Iqbal (b. 1932)
  45. بے وفائی کرکے نکلوں یا وفا کر جاؤں گاشہر کو ہر ذائقے سے آشنا کر جاؤں گاZafar Iqbal (b. 1932)
  46. پائے ہوئے اس وقت کو کھونا ہی بہت ہےنیند آئے تو اس حال میں سونا ہی بہت ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  47. پتا چلا کوئی گرداب سے گزرتے ہوئےنہ بند ہوتے ہوئے باب سے گزرتے ہوئےZafar Iqbal (b. 1932)
  48. پریوں ایسا روپ ہے جس کا لڑکوں ایسا ناؤںسارے دھندے چھوڑ چھاڑ کے چلیے اس کے گاؤںZafar Iqbal (b. 1932)
  49. پھر کوئی شکل نظر آنے لگی پانی پرسخت مشکل میں ہوں اس طرح کی آسانی پرZafar Iqbal (b. 1932)
  50. پیدا یہ غبار کیوں ہوا ہےاور آخری بار کیوں ہوا ہےZafar Iqbal (b. 1932)