خشک آنکھوں میں بہت ہیں ابھی آنسو باقی

Danish Aligarhi (b. 1931)

خشک آنکھوں میں بہت ہیں ابھی آنسو باقی

پھول سوکھے ہیں مگر ان میں ہے خوشبو باقی

ان کی زلفوں کو چھوئے ایک زمانہ گزرا

آج تک ہے مرے ہاتھوں میں وہ خوشبو باقی

صبر و تسکین سے جو منسوب تھے وہ ختم ہوئے

دامن دل میں ہیں اب جبر کے آنسو باقی

کیا تری یاد کی اب ہم سے تواضع ہوگی

اب نہ باقی ہے لہو دل میں نہ آنسو باقی

روز تخلیق جو آواز سنی تھی دانشؔ

اس کا اب تک مری رگ رگ میں ہے جادو باقی