یہ کیسے کہہ دوں کہ کچھ تم سے واسطہ ہی نہیں
Danish Aligarhi (b. 1931)یہ کیسے کہہ دوں کہ کچھ تم سے واسطہ ہی نہیں
بچھڑ کے تم سے کہیں اور دل لگا ہی نہیں
نظر ملا کے کیا بے نیاز ہوش مجھے
تمہاری نظروں میں جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہیں
مجھے ستائیں گی کیا گردشیں زمانے کی
میں کل کے بارے میں اے دوست سوچتا ہی نہیں
یہ اہل بزم مجھے دیکھتے ہیں حیرت سے
میں جس کو دیکھ رہا ہوں وہ دیکھتا ہی نہیں
سکون قلب و جگر لوٹ لے گیا دانشؔ
ایک ایسا شخص کہ جس کو میں جانتا ہی نہیں