روایت تھی یہ سمجھوتا نہیں تھا
Zafar Naseemi (b. 1931)روایت تھی یہ سمجھوتا نہیں تھا
میں سب کا تھا کوئی میرا نہیں تھا
ہمیشہ اس لئے نا خوش رہا میں
جو اچھا تھا بہت اچھا نہیں تھا
مرے حصے میں آیا صبر کا پھل
مگر افسوس وہ میٹھا نہیں تھا
کہانی زندگی کی مختصر تھی
الف لیلیٰ کا افسانہ نہیں تھا
اسی آنسو پہ تھی امید قائم
جو اس کی آنکھ سے چھلکا نہیں تھا
توازن کھو چکی برسوں سے دنیا
جہاں فرعون تھا موسیٰ نہیں تھا
سزا غیروں کے جرموں کی ملے گی
میں وہ کاٹوں گا جو بویا نہیں تھا
سر رہ لوٹتے ہیں چین رہزن
یہاں ایسا کبھی ہوتا نہیں تھا
دلوں کے رشتے کیسے ٹوٹ جاتے
یہ دو ملکوں کا بٹوارا نہیں تھا
مساوات حرم اللہ اکبر
وہاں کوئی بڑا چھوٹا نہیں تھا
خدایا بخش دے میری خطائیں
میں اکثر ہوش میں رہتا نہیں تھا