ہنگامہ کس لیے ہے بپا تیرے شہر میں
Danish Aligarhi (b. 1931)ہنگامہ کس لیے ہے بپا تیرے شہر میں
کیا پھر کوئی غریب لٹا تیرے شہر میں
ہر شخص کر رہا ہے جفا تیرے شہر میں
جینے کا آ رہا ہے مزا تیرے شہر میں
رنگین صبح و شام تھے شب بھی حسین تھی
دل کو مگر سکون نہ تھا تیرے شہر میں
اس طرح اہل شہر نے مجھ پر ستم کئے
رہتا نہیں ہو جیسے خدا تیرے شہر میں
اب خود سے پوچھتا ہوں پتا اپنے گاؤں کا
ایسا ملا وفا کا صلہ تیرے شہر میں
دانشؔ کو تیرے پیار نے کی دشمنی عطا
پہلے کوئی رقیب نہ تھا تیرے شہر میں