شرم سے اس نے نگاہوں کو ملانے نہ دیا

Danish Aligarhi (b. 1931)

شرم سے اس نے نگاہوں کو ملانے نہ دیا

ضبط نے حال دل زار سنانے نہ دیا

ہائے وہ بزم جو قائم تھی ہمارے دم سے

ہم کو حالات نے اس بزم میں جانے نہ دیا

غم نہیں اپنے نشیمن کا نشاں تک نہ رہا

برق کو ہم نے گلستاں تو جلانے نہ دیا

ترک الفت کا ارادہ تو کیا تھا لیکن

دل نے دامن تری یادوں سے بچانے نہ دیا

اور کیا رکھتے بھرم ان کی جفا کا دانشؔ

شکوہ بربادی کا لب پر کبھی آنے نہ دیا