عجیب قید لگائی ہے تم نے پیار کے ساتھ
Danish Aligarhi (b. 1931)عجیب قید لگائی ہے تم نے پیار کے ساتھ
خزاں نصیب رہوں رہ کے میں بہار کے ساتھ
غم حیات سے ممکن نہیں ہے چھٹکارا
ترا خیال بھی ہے فکر روزگار کے ساتھ
قریب ہونٹوں کے لبریز جام چھلکانا
عجب مذاق ہے ساقی یہ بادہ خوار کے ساتھ
مرا خیال ہے تم بھی نہ توڑ پاؤ گے
اک ایسا رشتۂ محکم ہے انتظار کے ساتھ
یہ اور بات اٹھاتے ہیں انگلیاں دشمن
مجھے خوشی ہے لٹا ہوں میں رہ کے یار کے ساتھ
لٹا کے اپنا سبھی کچھ بہت ہوں خوش دانشؔ
خیال ان کی خوشی کا تھا اپنی ہار کے ساتھ