اک ستاروں بھرا آسماں ہو گئے
Danish Aligarhi (b. 1931)اک ستاروں بھرا آسماں ہو گئے
اب خدا کی قسم تم جواں ہو گئے
مسکرائے تو تیروں کی برسات کی
اور ناراض ہو کر کماں ہو گئے
یوں بظاہر تو نظروں سے نظریں ملیں
کیسے کیسے مگر امتحاں ہو گئے
تم بھی اک واقعہ ہو کے رہ جاؤ گے
ہم بھی بھولی ہوئی داستاں ہو گئے
آزمانا ہے کیا کوئی تیر ستم
آج دانشؔ وہ کیوں مہرباں ہو گئے