کل لہکتی چاندنی نے اور بھی تنہا کیا

Parkash Fikri (1931–2008)

کل لہکتی چاندنی نے اور بھی تنہا کیا

میں اندھیرے بند کمرے میں پڑا رویا کیا

آندھیوں کی زد میں آ کر آرزوؤں کا شجر

خشک پتے سا سہم کر خوف سے لرزا کیا

گہرے پانی کے سکوں کا راز پانے کے لئے

اس کی تہہ میں ڈوب جاؤں دیر تک سوچا کیا

لاش اس کی مت جلاؤ سرد مٹی ڈال کر

زندگی میں جو بچارہ آگ میں جھلسا کیا

وقت نے فکریؔ ملی ہے خاک ایسی شکل پر

وہ بھی مجھ کو غیر بن کر دور سے دیکھا کیا