ہائے کیا پر فریب سازش ہے

Zafar Naseemi (b. 1931)

ہائے کیا پر فریب سازش ہے

شہر کا شہر نذر آتش ہے

جام جمشید زیر گردش ہے

دیکھتے جائیے نمائش ہے

عام ظلم و ستم کا چرچا کیوں

خاص لطف و کرم کی بارش ہے

پوچھتی ہے زبان خنجر کی

کیا ابھی زندگی کی خواہش ہے

خوف و دہشت کے سونے جنگل میں

صبر و ہمت کی آزمائش ہے

عقل کے دشمنوں کو کیا کہیے

علم کے مخزنوں پہ بندش ہے

کیا ابھی سانس لے رہے ہو ظفرؔ

جی حضور آپ کی نوازش ہے