اب نہیں کوئی مرے دل کو دکھانے والا

Danish Aligarhi (b. 1931)

اب نہیں کوئی مرے دل کو دکھانے والا

یاد آتا ہے بہت روٹھ کے جانے والا

گردش وقت مٹا مجھ کو مگر یاد رہے

پھر نہیں کوئی ترا ناز اٹھانے والا

جب بھی آئے گی مری یاد تڑپ جائے گا

اپنی محفل کو مرے بعد سجانے والا

جس کی خاطر لئے الزام جہاں کے میں نے

یہ وہی شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا

کوئی مخلص نہ ملا ایسا جہاں میں دانشؔ

میری بربادی پہ دو اشک بہانے والا