خوشی کا نام سنا ہے مگر خوشی کیا ہے

Danish Aligarhi (b. 1931)

خوشی کا نام سنا ہے مگر خوشی کیا ہے

ترے بغیر جو گزرے وہ زندگی کیا ہے

مجھے بھی کچھ تو سمجھ آئے زندگی کیا ہے

خدا کرے تو سمجھ لے کہ دوستی کیا ہے

جبیں ہے نقش کف پائے یار پر واعظ

اب اس سے بڑھ کے بتا اور بندگی کیا ہے

غم و خوشی تو بس احساس کی امانت ہیں

جہاں میں ورنہ الم کیا ہے اور خوشی کیا ہے

میں آج تک اسے سمجھا نہیں ہوں اے دانشؔ

کہ دشمنی کسے کہتے ہیں دشمنی کیا ہے