ظالم سے محبت کا صلہ مانگ رہے ہیں
Danish Aligarhi (b. 1931)ظالم سے محبت کا صلہ مانگ رہے ہیں
نادان ہیں پتھر سے وفا مانگ رہے ہیں
پھر اور کوئی سازش رنگیں تو نہیں ہے
وہ آج مرے حق میں دعا مانگ رہے ہیں
الطاف و کرم آپ کے اوروں کو مبارک
ہم آپ سے جینے کی ادا مانگ رہے ہیں
ہم مرتکب جرم وفا ہو تو چکے ہیں
دو جرم محبت کی سزا مانگ رہے ہیں
جب مجھ سے کوئی ان کا تعلق نہیں دانشؔ
پھر کیوں مرے جینے کی دعا مانگ رہے ہیں