Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن- ہزار صبح نے کرنوں کے جال پھیلائےمگر سمٹ نہ سکے رات کے گھنے سائےZafar Akbarabadi
- کھلا ہوا ترا چہرہ گلاب کا سا تھااور اس پہ نور کسی ماہتاب کا سا تھاFaiz Tabassum Tonsvi
- مآل کار نہ کچھ بھی ہوا تو کیا ہوگانہ ہم رہے نہ زمانہ رہا تو کیا ہوگاہوش بلگرامی
- نہ کام فکر سے نکلا نہ چل سکی تدبیرکسی طرح سے نہ بدلی پھری ہوئی تقدیرہوش بلگرامی
- وہ خواب جیسا تھا گویا سراب لگتا تھاحسین ایسا کہ فخر گلاب لگتا تھاIbn-e-Mufti
- وہ برق جلوہ دکھائے جمال اگر اپناتو اے کلیم کریں ہم نثار سر اپناIbraheem Aajiz
- سجا رہے گا اندھیروں سے ہی کھنڈر میرااک ایک کر کے ہوا ختم اب سفر میراLaiq Aajiz
- صبا یہ بارگہہ حسن میں خبر کرنااسے تو چاہئے ذروں کو بھی قمر کرناLaiq Aajiz
- مجھے تو جو بھی ملا ہے عذاب کی صورتمری حیات ہے اک تشنہ خواب کی صورتLaiq Aajiz
- ہوئے تھے بھاگ کے پردے میں تم نہاں کیونکروہ پہلی وصل کی شب شوخیاں تھیں ہاں کیونکرمیر تسکین دہلوی
- گئی جو طفلی تو پھر عالم شباب آیاگیا شباب تو اب موسم خضاب آیامردان علی خاں رانا
- مجھے جو دور سے لگتا تھا آب کا دریاگیا قریب تو پایا سراب کا دریاNadim Balkhi
- کبھی بہار بنے اور سنور گئے ہم لوگکبھی غبار کی صورت بکھر گئے ہم لوگRabab Rashidi
- جو غم نصیب ہیں کیوں وہ خوشی سے ملتے ہیںاندھیرے دیکھیے کب روشنی سے ملتے ہیںRafi Badayuni
- دلوں میں جذبۂ نفرت ہے کیا کیا جائےزباں پہ دعویٔ الفت ہے کیا کیا جائےRafi Badayuni
- سلوک دوست سے بیزار کیا ہوا ہوں میںخیال یہ ہے بلندی سے گر گیا ہوں میںRafi Badayuni
- کبھی وہ خود سے بھی برہم دکھائی دیتا ہےکبھی وہ لطف مجسم دکھائی دیتا ہےRafi Badayuni
- نگاہ شوق تجھے کامیاب کس نے کیادل تباہ کو خانہ خراب کس نے کیاRafi Badayuni
- دل رقیب تو دیکھا مرا جگر دیکھیںادھر کے دیکھنے والے ذرا ادھر دیکھیںراجہ نوشاد علی خان
- اسے ضرور کوئی کام آ گیا ہوگاوگرنہ کوئی کسی کو یوں بھولتا ہوگاVibha Jain 'Khwaab'
- مسافروں کی طرح رہ گزر میں رہتا ہےیہ راستہ بھی مسلسل سفر میں رہتا ہےVibha Jain 'Khwaab'
- ہے اس کا حق یہ ہو پر ماتما سے جس کی لاگکسی بھی شخص کی میراث تو نہیں بیراگZaheer Abbas Saer
- یوں نفرتوں میں محبت کے سلسلے دیکھےجو توڑنے پہ نہ ٹوٹے وہ آئنے دیکھےZaheer Abbas Saer
- شب فراق سے مانوس غم کا مارا ہوںابھرتا چاند نہیں ڈوبتا ستارا ہوںGhamgeen Qureshi
- کسی طرح بھی وہ تکمیل مدعا کرتےوفا کی خو جو نہیں تھی تو پھر جفا کرتےHabeeb Jaunpuri
- بجھی بجھی سی ہے آنکھوں کی روشنی میریوہ کیا گئے کہ گئی ساتھ زندگی میریJagjeewan Lal Asthana sahar
- جو تیرے نقش کف پا پہ چل گئے ہوتےتو مہر و ماہ سے آگے نکل گئے ہوتےNadim Ashrafi Burhanpuri
- زہے نصیب کہ ان کی کوئی خبر آئیاندھیرا دور ہوا روشنی نظر آئیNadim Ashrafi Burhanpuri
- ازل سے بس یہی عالم ہے کیا کیا جائےکبھی خوشی ہے کبھی غم ہے کیا کیا جائےNafees Ahmad Sahar
- خیال شب کبھی فکر سحر میں رہتا ہےتمام عمر پرندہ سفر میں رہتا ہےNafees Ahmad Sahar
- نہ گل کھلے ہیں نہ گردش میں جام آیا ہےیہ کیسا اب کے چمن میں نظام آیا ہےNafees Ahmad Sahar
- تری گلی میں ترے جاں نثار بیٹھے ہیںنگاہ لطف کے امیدوار بیٹھے ہیںعنایت اللہ روشن بدایونی
- خدا کا شکر ادا صبح و شام کرتے ہیںجو خاص بندے ہیں وہ خاص کام کرتے ہیںعنایت اللہ روشن بدایونی
- زمیں کو سر پہ اٹھائے ہوئے نہ چل غافلاگر ہے ہوش تو ہشیار ہو سنبھل غافلعنایت اللہ روشن بدایونی
- تجھے بھی چین نہ آئے قرار کو ترسےچمن میں رہ کے چمن کی بہار کو ترسےQaisar Nizami
- تری نظر کے اشاروں کو دلکشی بخشینظر نواز نظاروں کو تازگی بخشیQaisar Nizami
- تری نظر کے اشاروں کو نیند آئی ہےحیات بخش سہاروں کو نیند آئی ہےQaisar Nizami
- نظام گلشن ہستی بدل کے دم لیں گےحدود رنج و الم سے نکل کے دم لیں گےQaisar Nizami
- نظر نواز نظاروں سے بات کرتا ہوںسکوں نصیب سہاروں سے بات کرتا ہوںQaisar Nizami
- نہ بھولنا مجھے دل سے مری خبر لیناجو یاد آؤں کبھی میں تو یاد کر لینارنج حیدرآبادی
- ملا ہوا کبھی سینے سے ان کے سینہ تھاعجب وہ روز تھے یا رب عجب مہینہ تھارنج حیدرآبادی
- ہمارے واسطے رستے کہاں دعا کے تھےہزار زینے بس اپنے نقوش پا کے تھےV. Sudhakar Rao
- گری ہے برق تپاں دل پہ یہ خبر سن کرچڑھا دیا ہے بھگت سنگھ کو رات پھانسی پرAaftab Rais Panipati
- میں ڈر رہا ہوں ہر اک امتحان سے پہلےمرے پروں کو ہوا کیا اڑان سے پہلےAanand Saroop Anjum
- ہوا چلی ہے نہ پتا کوئی ہلا اب تکوہی ہے ایک خموشی کا سلسلہ اب تکAanand Saroop Anjum
- نہ کوئی صبح کا منظر نہ شام کی تصویرسکوت کھینچ رہا ہے کلام کی تصویرBabar Zuhrab
- ہماری آنکھ میں منظر تمھارے روشن ہیںکہ جیسے نیلے فلک پر ستارے روشن ہیںBabar Zuhrab
- نہیں ہے اشک سے یہ خون ناب آنکھوں میںبھرا ہے رنگ سے تیرے شہاب آنکھوں میںباقر آگاہ ویلوری
- اثر نہ کم ہو کبھی نالۂ رسا تیرارہے بڑھا ہوا ہر آن حوصلہ تیرابیتاب عظیم آبادی
- سکون پیار تبسم بہار گل شبنمخوشی میں زیست کو کیا کیا سمجھ گئے تھے ہمDaud Naseeb