سلوک دوست سے بیزار کیا ہوا ہوں میں
Rafi Badayuniسلوک دوست سے بیزار کیا ہوا ہوں میں
خیال یہ ہے بلندی سے گر گیا ہوں میں
بدلتے وقت نے ہر چیز کو بدل ڈالا
خلوص ویسا کہاں ہے جو سوچتا ہوں میں
مجھے لگا ہے کہ تحلیل ہو گیا ہے وجود
کبھی جب ان کے خیالوں میں کھو گیا ہوں میں
محبتوں کا حسیں دور آنے والا ہے
یہ رخ بھی ان کی عداوت کا دیکھتا ہوں میں
مرے شعور میں ماحول کی ہے بے چینی
نوائے وقت ہوں اک درد کی صدا ہوں میں
شکایتوں میں گنوانے سے اس کو کیا حاصل
ذرا سا وقت ملا ہے تو آ گیا ہوں میں
رہ حیات کے ہر موڑ پر یہ لگتا ہے
فریب کار کی باتوں میں آ گیا ہوں میں
اب اپنی زیست کی تپتی ہوئی سی راہوں پر
کسی درخت کے سائے کو ڈھونڈھتا ہوں میں
مجھے یہ طرز تجاہل عجیب لگتا ہے
وہ کہہ رہے ہیں کہیں آپ سے ملا ہوں میں