میں ڈر رہا ہوں ہر اک امتحان سے پہلے
Aanand Saroop Anjumمیں ڈر رہا ہوں ہر اک امتحان سے پہلے
مرے پروں کو ہوا کیا اڑان سے پہلے
مرے نصیب میں رستوں کی دھول لکھی تھی
نہ مل سکی مجھے منزل تکان سے پہلے
یہ کون شخص تھا چالاک کس قدر نکلا
کہ بات چھیڑ گیا درمیان سے پہلے
میں اس کے درد کا درماں تو جانتا تھا مگر
وہ کچھ تو بولتا اپنی زبان سے پہلے
تم اس کے گھر کی طرف چل پڑے تو ہو لیکن
کوئی پڑاؤ نہیں آسمان سے پہلے
کھڑا ہوں آج میں انجمؔ یقیں کی سرحد پر
عجیب کرب میں گم تھا گمان سے پہلے