مسافروں کی طرح رہ گزر میں رہتا ہے

Vibha Jain 'Khwaab'

مسافروں کی طرح رہ گزر میں رہتا ہے

یہ راستہ بھی مسلسل سفر میں رہتا ہے

ہر ایک کمرے میں آئینہ اس لئے رکھا

لگے کہ کوئی مرے ساتھ گھر میں رہتا ہے

کوئی لگا لے اگر ایک کش اداسی کا

تو پھر وہ عمر بھر اس کے اثر میں رہتا ہے

عجیب حال ہے تجھ سے بچھڑ کے بھی اب تک

یہ دل تجھی سے بچھڑنے کے ڈر میں رہتا ہے

اگر میں جان بھی دے دوں تو کوئی اف نہ کرے

اگر وہ اف بھی کرے تو خبر میں رہتا ہے