کبھی وہ خود سے بھی برہم دکھائی دیتا ہے
Rafi Badayuniکبھی وہ خود سے بھی برہم دکھائی دیتا ہے
کبھی وہ لطف مجسم دکھائی دیتا ہے
زمانہ ہوتا ہے مجبور رخ بدلنے پر
کسی کا عزم جو محکم دکھائی دیتا ہے
عروس دہر کی رنگینیٔ جمال میں اب
ترے شباب کا عالم دکھائی دیتا ہے
تلاش دوست مسافت ہے ایک لا محدود
کہ جس قدر بھی چلیں کم دکھائی دیتا ہے