ہے اس کا حق یہ ہو پر ماتما سے جس کی لاگ

Zaheer Abbas Saer

ہے اس کا حق یہ ہو پر ماتما سے جس کی لاگ

کسی بھی شخص کی میراث تو نہیں بیراگ

خموش بیٹھو نہ تم رکھ کے ہاتھ پر یوں ہاتھ

بناؤ جہد مسلسل سے آپ اپنے بھاگ

کیا فریب محبت سے فرش والوں نے

برستی ہے جو فلک سے مخاصمت کی آگ

نشاط و غم کا عجب امتزاج ہے ان میں

یہ میرے سانس ہی میرے وجود کا ہیں راگ

یہ تیرے عزم کو منزل سے قبل ڈس لیں گے

مسافتوں میں اگر ہم سفر ہیں خوف کے راگ

تمام شہر کے افراد سو گئے سائرؔ

مرے ضمیر کی آواز ہے مسلسل جاگ