یوں نفرتوں میں محبت کے سلسلے دیکھے
Zaheer Abbas Saerیوں نفرتوں میں محبت کے سلسلے دیکھے
جو توڑنے پہ نہ ٹوٹے وہ آئنے دیکھے
پڑے گا فرق بھی کیا ان کے دور جانے سے
قریب رہ کے بھی ہم نے تو فاصلے دیکھے
ہوا جو ہم پہ عیاں خود نشان منزل کا
تو رقص کرتے ہوئے رہ میں زلزلے دیکھے
خمار ان کا ابھی تک ہے میری آنکھوں میں
جو میں نے خواب کی صورت میں رتجگے دیکھے
زمین پر ہی نہیں سلسلہ جدائی کا
ستارے ہم نے فلک کے بھی ٹوٹتے دیکھے
رہے وہ اشک بہاتے جو میرے اپنے تھے
لحد میں ساتھ جو اترے وہ دوسرے دیکھے
زمیں پہ آگ لگا دی پلک جھپکنے میں
فلک سے ٹوٹتے بجلی کے زاویے دیکھے
ہمیشہ عظمت انساں کے ہم رہے قائل
نہ عہدے دیکھے کبھی اور نہ مرتبے دیکھے
نشاط و غم کے کئی زندگی میں موڑ آئے
تو تلخ و شیریں سبھی ہم نے ذائقے دیکھے
اڑا رہا تھا وہ جیسے مذاق خود اپنا
خوشی کی بزم میں مفلس کے قہقہے دیکھے
سبب ہیں اپنی تباہی کا ایٹمی ہتھیار
ہوا میں آدمی کے اڑتے پرخچے دیکھے
ہو شاعری سے جسے عشق اس پہ لازم ہے
مری غزل کو پڑھے اور قافیے دیکھے
ہمیشہ ہنستا ہوا دشمنوں سے پیش آیا
بلند تر تھے جو سائرؔ کے حوصلے دیکھے