ہوا چلی ہے نہ پتا کوئی ہلا اب تک

Aanand Saroop Anjum

ہوا چلی ہے نہ پتا کوئی ہلا اب تک

وہی ہے ایک خموشی کا سلسلہ اب تک

وہ کون لوگ ہیں کس کی تلاش میں گم ہیں

ہمیں تو اپنا پتہ بھی نہیں ملا اب تک

تو اپنے چاہنے والوں سے آشنا نہ ہوئی

یہی تو تجھ سے ہے اے زیست اک گلا اب تک

کسی کا دامن صد چاک کیا رفو کرتے

کہ ہم سے اپنا بھی دامن نہیں سلا اب تک

وہی سفر وہی تارے وہی تھکن باقی

وہی ہے بجھتے چراغوں کا سلسلہ اب تک

پرانی بات میں کل کی سمجھ کے بھول گیا

مگر ہے زخم تمنائے دل کھلا اب تک

جسے میں ڈھونڈ رہا ہوں گلی گلی انجمؔ

وہ شخص مجھ سے بچھڑ کر نہیں ملا اب تک